.

سعودی عرب کی پہلی نوٹری خاتون نے وزیر انصاف سے کیا مطالبہ کیا تھا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی وزارتِ انصاف کی جانب سے 12 خواتین وکلاء کو نوٹری پبلک میں کام کے لیے لائسنس جاری کیے گئے ہیں۔ ان میں 5 خواتین کا تعلق جدہ سے ، 4 کا ریاض سے ، 2 کا مکّہ سے اور ایک خاتون کا تعلق عنیزہ سے ہے۔

ایڈوکیٹ بیان زہران کا شمار اُن خواتین وکلاء میں ہوتا ہے جنہوں نے سب سے پہلے اپنے حقوق کا مطالبہ کیا۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بیان نے بتایا کہ "میں نے نوٹری پبلک کے لائسنس کے حوالے سے وزارت انصاف کو درخواست پیش کی اور مملکت کا نظام واقعتا خواتین کو مستثنی نہیں کرتا ہے۔ وزیر انصاف کو پیش کی گئی اس درخواست کی بنیاد پر خواتین کو مذکورہ لائسنس فراہم کیے جانے پر غور کیا گیا۔ یقینا خواتین کے لیے اس شعبے میں لائسنس پیشہ ورانہ میدان میں کام کرنے والوں کے بیچ مساوات اور عدل کو یقینی بناتے ہیں"۔

بیان کے مطابق پرائیوٹ نوٹری وکالت نامے کے اختیار کو جاری اور منسوخ کرتا ہے اور کارپوریٹ دستاویزات کی تصدیق کرتا ہے، اس طرح مستقبل میں کسی قانونی تنازع کے وقوع کو روکا جا سکتا ہے۔

بیان نے مزید کہا کہ "خواتین کی ایک بڑی تعداد خاتون وکیل کے ساتھ معاملات کو ترجیح دیتی ہیں کیوں کہ اس میں اُن کے لیے زیادہ راحت کا سامان ہوتا ہے۔ سعودی خاتون نے واقعتا ثابت کر دیا ہے کہ وہ ہر مشن انجام دینے کی صلاحیت رکھتی ہے اور اس چیز نے سعودی عورت کو معاشرے میں قابل اعتماد بنا دیا ہے"۔

سعودی عرب میں "لاء فرم" کھولنے والی پہلی خاتون بیان زہران نے واضح کیا کہ وکالت کے لائسنس کا حصول اُن کا خواب تھا۔ انہوں نے کہا کہ "اس میدان میں طویل عرصے سے مردوں کی پیشہ ورانہ اجارہ داری قائم تھی۔ بعد ازاں باقاعدہ طور پر خواتین کے لیے وکالت کے لائسنس کا مطالبہ سامنے آیا۔ یقینا اس پیشے میں میری ریاضت کا خواب اس امر کا متقاضی تھا کہ ایک دفتر کا افتتاح کیا جائے۔ میرے والد نے تمام تعلیمی اور عملی مراحل میں میری بھرپور حوصلہ افزائی کی"۔

بیان کے مطابق قانون کی تعلیم سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد ابتدا میں ان کو کام حاصل کرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ تاہم بیان نے فیصلہ کر لیا کہ وہ اپنی ڈگری کو محض گھر کی دیوار کی زینت نہیں بننے دیں گی بلکہ پیشہ ورانہ میدان میں عملی طور پر اپنی موجودگی ثابت کریں گی۔ انہوں نے رضاکارانہ طور پر فلاحی اور خیراتی اداروں میں موجود خواتین کے مقدمات لینا شروع کر دیے۔ بعد ازاں انہیں خاندانی تحفظ کی انجمن میں بطور قانونی مشیر نامزد کر دیا گیا۔ بیان زہران نے باور کرایا کہ پیشہ ورانہ میدان میں کسی راستے پر بھی پھولوں کی سیج نہیں ہوتی اور وکالت کا پیشہ ذہنی اور فکری مشقّت سے بھرپور ہے۔ مقدمے کو تفصیل اور باریک بینی کے ساتھ پڑھنا، اس کے لیے تیاری کرنا اور صاحب مقدمہ کو اُس کا حق دلانا اِن تمام امور کے لیے بہت محنت اور جدّوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔

بیان نے وکالت کے شعبے میں پیشہ ورانہ مہارت کے بارے میں ایک کتاب بھی تحریر کی ہے۔

بیان کو اُن کے شعبے میں عملی طور پر سب سے زیادہ با اثر شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے تاہم بیان کا کہنا ہے کہ اُن وہ یہاں پر رکیں گی نہیں بلکہ وہ اور آگے جانے کا خواب رکھتی ہیں۔