.

شام : درعا شہر سے باغیوں اور ان کے خاندانوں کے انخلا کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے جنوبی شہر درعا سے حکومت کے ساتھ سمجھوتے کے تحت اتوار کو باغیوں اور ان کے خاندانوں کے انخلا کا آغاز ہوگیا ہے۔

فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے درعا میں موجود نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ سیکڑوں جنگجو اور شہر میں موجود رہ جانے والے ان کے بہت تھوڑی تعداد میں رشتے داروں کو پندرہ بسوں پر سوار کر کے روانہ کردیا گیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے اطلاع دی ہے کہ بسیں جنگجوؤ ں اور ان کے خاندانوں کے اکٹھے ہونے کی جگہ سے شہر کے کنارے کی جانب جارہی ہیں جہاں ان کی تلاشی لی جا رہی ہے۔انھیں شام کے شمال مغربی علاقے کی جانب منتقل کیا جارہا ہے۔درعا سے باغیوں کے انخلا کے بعد شامی فوج کے شہر پر کنٹرول کی راہ ہموار ہوجائے گی۔

القنیطرہ پر شدید گولہ باری

رصدگاہ کی ایک اور اطلاع کے مطابق شامی فوج ایک اور جنوبی صوبے القنیطرہ میں آج علی الصباح تین بجے سے توپ خانے سے شدید گولہ باری کررہی ہے اور اس نے بعض علاقوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے۔

رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ شامی فوج نے چھے گھنٹے کے دوران میں صوبے کے مختلف علاقوں میں قریباً آٹھ سو میزائل اور گولے داغے ہیں اور برسر زمین شامی فوج اور باغیوں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔

انھوں نے کہا کہ شامی فوج کی بمباری سے ہمسایہ صوبے درعا کے بھی بعض علاقے نشانہ بنے ہیں۔ تاہم انھوں نے فوری طوری شامی فوج کی بمباری اور لڑائی میں ہلاکتوں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ہے۔

القنیطرہ کی سرحد اسرائیل کے مقبوضہ گولان کی چوٹیوں سے ملتی ہے۔اس صوبے کے 70 فی صد علاقے پر باغیوں اور جنگجو گروپوں کا کنٹرول ہے اور صرف 30 فی صد علاقہ بشار الاسد کی حکومت کی عمل داری میں آیا ہے۔اس کے پڑوس میں واقع ایک اور جنوبی صوبے السویدہ پر اسد حکومت کا مکمل کنٹرول ہے۔

درعا میں شامی فوج نے روس کی فضائی مدد سے 19 جون کو باغیوں کے خلاف کارروائی شروع کی تھی اور اس نے اب تک اس صوبے کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ درعا اور القنیطرہ میں لڑائی کے آغاز کے بعد سے اسرائیل میں ہائی الرٹ ہے ۔

رامی عبدالرحمان کی اطلاع کے مطابق القنیطرہ میں شامی فوج باغیوں کے خلاف لڑائی میں لڑاکا جیٹ استعمال نہیں کررہی ہے اور نہ ابھی تک روسی طیاروں نے اس میں حصہ لیا ہے۔اسرائیلی فوج نے جمعہ کو اس صوبے سے اپنے سرحدی علاقے کی جانب آنے والے ایک ڈرون کو مار گرایا تھا۔