.

شامی اپوزیشن نے اسد رجیم سے ’مصالحت‘ کرانے والے 45 افراد گرفتار کرلیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی اپوزیشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بشارالاسد رجیم کے ایجنٹ ہونے کے شُبے میں حکومت کے ساتھ مصالحت کرانے کا دعویٰ کرنے والے 45 افراد کو حراست میں لیا ہے۔ ان لوگوں کی گرفتاری شمال مغربی شہروں سے عمل میں لائی گئی۔

شامی اپوزیشن کے ایک گروپ ’نیشنل موومنٹ فار فریڈیم‘ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ نام نہاد مصالحت کاروں کی گرفتاری کی مہم ایک ہفتہ قبل شروع کی گئی تھی۔ ادلب اور حماۃ میں ایسے پیتنالیس افراد کو دھر لیا گیا ہے جو مبینہ طور پرحکومت اور اپوزیشن کےدرمیان مصالحت کاری کی آڑ میں تخریب کاری میں سرگرم تھے۔

اپوزیشن گروپ کے ایک رہ نما ادھم رعدون نے بتایا کہ پہلی کارروائی میں مصالحت کے لیے سرگرم 15 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ اس کےبعد روزانہ کی بنیاد پر ایسے افراد کو گرفتار کیا جا رہا ہے جو اسد رجیم کے ساتھ صلح کرانے کی مہمات چلا رہے ہیں۔ اب تک ایسے 45 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان میں کچھ لوگ اسد رجیم کی طرف سے بلدیاتی نمائندوں کے طور پر بھی نامزد کیے گئے ہیں۔

ادھر شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے آبزر ویٹری کا کہنا ہے کہ حکومت اوراپوزیشن کے درمیان صلح کی کوشش کرنے والے 50 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ لوگ حماۃ اور ادلب میں اپوزیشن اور حکومتی انٹیلی جنس اداروں کے درمیان ملاقاتیں کرانے کے لیے کوشاں تھے۔

خیال رہے کہ ادلب کے 60 فی صد علاقے پر تحریر الشام محاذ [سابقہ النصرہ فرنٹ] کا کنٹرول ہے جب کہ دیگر چالیس فی صد علاقوں پر اپوزیشن کے حامی مذہبی عسکریت پسند گروپوں کی حکومت ہے۔