القاعدہ کے سبب ایران سے عراق کو 11 ارب ڈالر زرِ تلافی ادا کرنے کا مطالبہ
عراق کے ایک سابق رکن پارلیمنٹ نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے القاعدہ تنظیم کو عراق میں داخل کیا لہذا اب تہران دس لاکھ عراقیوں کی ہلاکت کے زر تلافی کے طور پر 11 ارب ڈالر ادا کرے۔
سابق رکن پارلیمنٹ فائق الشیخ علی کی جانب سے جمعرات کے روز ایک ٹوئیٹ میں سامنے آنے والا موقف ایرانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر محمود صادقی کے بیان کا جواب ہے۔ صادقی نے عراق سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اقوام متحدہ کی قرارداد 598 کے آرٹیکل 6 کے تحت 1988ء میں اختتام پذیر ہونے والی عراق ایران جنگ کے ہرجانے کے طور پر ایران کو 11 ارب ڈالر ادا کرے۔
رداً على مطالبة نائب رئيس مجلس الشورى الإيراني محمود صادقي العراق بتعويضهم عن الحرب ب1.1 مليار دولار أميركي.
— فائق الشيخ علي/كلمتي للتاريخ (@faigalsheakh) August 9, 2018
فإني باسم عوائل ضحايا الإرهاب أطالبك وأطالب دولتك ب11 مليار دولار أميركي، كتعويض عن مليون عراقي قتلتموه، حينما أدخلتم القاعدة إلى بلادنا منذ 2003م بحجة محاربة الأميركيين!
ایرانی ڈپٹی اسپیکر کے مطالبے پر تبصرہ کرتے ہوئے عراقی ماہر قانون طارق حرب کا کہنا ہے کہ "سلامتی کونسل کی ایسی کوئی قرارداد نہیں جو عراق کو اس امر کا پابند کرتی ہو کہ وہ ایران کو زر تلافی ادا کرے"۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس طرح کے مطالبے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔
اس سے قبل عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے منگل کے روز اعلان کیا تھا کہ عراقی حکومت ایران پر امریکی پابندیوں پر عمل پیرا نہیں ہو گی۔ تاہم انہوں نے باور کرایا کہ بغداد حکومت اُن پابندیوں کی پاسداری کرے گی جو عراق کے مفاد میں ہوں گی۔
ادھر ایران نواز عراقی ملیشیاؤں نے اشارہ دیا ہے کہ وہ ایران پر عائد محاصرے کو کسی بھی ذریعے سے توڑیں گی۔