روسی صدر کا آسٹریا کی وزیر خارجہ کے ساتھ رقص

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

روسی صدر ولادی میر پوتین نے ہفتے کے روز آسٹریا کی وزیر خارجہ کرین کنیسل کی شادی کی تقریب میں شرکت کی۔ روسی صدر یہ نجی دورہ مکمل کر کے آسٹریا سے جرمنی کا رخ کریں گے جہاں وہ جرمن چانسلر اینگلا میرکل سے ملاقات کریں گے۔

پوتین پھولوں کا گُلدستہ لے کر روسی میوزیکل بینڈ کے ہمراہ آسٹریا کی جنوبی ریاست سٹیریا میں منعقد تقریب میں پہنچے۔

شادی کی تقریب کی متعدد تصاویر میں 53 سالہ کینیسل سفید رنگ کے طویل لباس میں پوتین کے ساتھ رقص کرتے ہوئے بھی نظر آئیں۔ اس دوران دونوں شخصیات کی جانب سے بات چیت کا سلسلہ اور مسکراہٹ کا تبادلہ جاری رہا۔

آسٹریا کی وزیر خارجہ کی شادی معروف کاروباری شخصیت وولفینگ میلنگر سے ہوئی ہے۔

ویانا اور ماسکو میں بہت سے حلقوں کو ایسے موقع پر پوتین کو دی جانے والی دعوت پر حیرت ہوئی ہے جب کہ جزیرہ نما قرم اور دیگر موضوعات کے حوالے سے یورپی یونین اور روس کے درمیان اختلافات دیکھا جا رہا ہے۔

اب تک ایسی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی جو کینیسل کو پوتین کی قریبی دوست ظاہر کرتی ہو۔ دوسری جانب آسٹریا میں فریڈم پارٹی کے سربراہ ہائنز کرسچین نے روس کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے اُس پر عائد پابندیاں اٹھا لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

آسٹریا کے مشیر زیبسٹین کورٹس بھی خاتون وزیر خارجہ کی شادی کی تقریب میں موجود تھے۔ انہوں نے ہفتے کے روز تقریب میں کینیسل کو مبارک باد دیتے ہوئے اس امر کو سراہا کہ وہ "پُلوں کو تعمیر" کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔

واضح رہے کہ آسٹریا نے یورپی یونین کے دیگر رکن ممالک کی روش نہیں اپنائی جنہوں نے برطانوی الزام کے بعد اپنے ملک سے روسی سفارت کاروں کو بے دخل کر دیا تھا۔ برطانیہ نے کرملین پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ برطانیہ میں روس کے سابق جاسوس اور اس کی بیٹی کو زہر دینے کی سازش میں ملوث ہے۔ ماسکو کی جانب سے بارہا اس الزام کو مسترد کیا جاتا رہا ہے۔

رواں برس جون میں پوتین نے آسٹریا کا دورہ کیا تھا۔ یہ ایک بار پھر روس کا صدر منتخب ہونے کے بعد پوتین کا کسی بھی مغربی ملک کا پہلا دورہ تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں