.

’ولایت فقیہ‘ کا نظام بنیادی جمہوریت سے متصادم ہے: اصلاح پسند رہ نما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے دو سرکردہ اصلاح پسند رہ نماؤں نے موجودہ حکمران نظام ’ولایت فقیہ‘ کو جمہوری اصولوں کے متصادم قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ولایت فقیہ‘ کے نظام میں شہریوں کو جمہوری آزادی حاصل نہیں۔ بہ ظاہر اسے مروجہ جمہوریت کی ایک شکل قرار دیا جاتا ہے مگر حقیقت میں یہ جمہوری اصولوں کے الٹ ہے۔ ایرانی عوام کو جمہوریت کی ضرورت ہے نہ کہ ’ولایت فقیہ‘ کی۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے مطابق ’ولایت فقیہ‘ پر تنقید کرنے والے اصلاح پسند رہ نماؤں ابو الفاضل قدیانی اور علی رضا رجائی نے ویب سائیٹ ’کلمہ‘ کو دیئے گئے انٹرویو میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ ایرانی نظام کئی بحرانوں کا سامنا کررہا ہے۔ یہ بحران سماجی، اقتصادی، سیاسی اور کئی دوسرے شعبوں میں جاری ہیں۔ ان بحرانوں کے تسلسل کی وجہ ان کے حل سے انکار اور ریاستی عہدیداروں کا اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی سے فرار ہے۔

انہوں نے کہا کہ سنہ 1979ء میں برپا ہونے والا انقلاب ایرانی عوام کی امنگوں کا آئینہ دار تھا اور اس میں بنیادی جمہوریت کی بات کی گئی تھی۔چونکہ وہ انقلاب ملک میں جاری شہنشاہی نظام کے خلاف تھا۔ اس لیے عوام کو توقع تھی کہ وہ جمہوریت کے ثمرات سے مستفید ہوں گے۔ اس سے عوام کی قوت مضبوط ہوگی مگر عوام پر ’ولایت فقیہ‘ کا نظام مسلط کردیا گیا۔ دستور کو اسی نظام کے ماتحت کردیا گیا اور عوام کے اختیارات کو ولی الفقیہ کے حوالے کردیا گیا۔ یہ امر جمہوریت کی روح اور اس کے حقیقی مفہوم سے متصادم ہے۔

ایرانی اصلاح پسند رہ نماؤں نے کہا کہ ’ولایت فقیہ‘ کے نظام کے تمام ادارے اور اس کا ڈھانچہ ملک کی دولت کو عوامی ضروریات کے بجائے مخصوص طبقے کو منتقل کررہا ہے۔ اس معنی میں بھی یہ نظام جمہوریت کی نفی کرتا ہے کیونکہ مملکت کے وسائل سے عوام مستفید نہیں ہو پا رہے۔ ’ولایت فقیہ‘ کانظام جمہوری رویات، اصولوں، اقلیتوں کے حقوق، مذہبی آزادیوں اور آزادی اظہار کی نفی کرتا ہے۔