.

یمن: آئینی حکومت کے زیرانتظام علاقوں کے مردوں سے شادی حرام قرار

حوثی مفتی کی طرف سے انوکھا فتویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ایران نوازحوثی گروپ کے نام نہاد مُفتی شمس الدین بن شرف الدین نے ایک فتویٰ جاری کیا ہے جس میں آئینی حکومت کے حامی مردوں کے ساتھ عورتوں کی شادی کو حرام قرار دیا ہے۔ فتوے میں کہا گیا ہے کہ آئینی حکومت کے حامیوں کے ساتھ شادی بیاہ جیسے تعلقات کا قیام قوم کے ساتھ خیانت اور قابل سزا سنگین جرم ہے۔

یہ فتویٰ مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ "ٹوئٹر: پر پوسٹ کیا گیا ہے۔ اس میں لکھا گیا ہے کہ کسی شہری کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ آئینی حکومت کے حامی مردوں کے ساتھ اپنی خواتین کی شادی کریں۔ علامہ شمس الدین نے آئینی حکومت کی طرف سے لڑنے والوں کواجرتی قاتل قرار دیا اور کہا کہ ایسے لوگ شادی بیاہ کے لیے قابل قبول نہیں۔ اگرکوئی ان کے ساتھ اپنی خواتین کی شادی کراتا ہے تو اسے اس کی سزا دی جائے۔

خیال رہے کہ شمس الدین بن شرف الدین ایران کے مذہبی مدارس سے فارغ التحصیل ہے اور اسے اپریل 2017ء کو یمن میں باغیوں کے زیرتسلط علاقوں میں مفتی کے عہدے پر فائز کیا گیا تھا۔

یہ فتویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند روز قبل حوثی شدت پسندوں نے حجۃ گورنری کی دو لڑکیوں کی بارات پرحملہ کردیا تھا۔ حجۃ گورنری کی دونوں‌ لڑکیوں‌کی شادی مآرب میں کرائی جا رہی تھی۔ مآرب چونکہ یمن کی حکومت کے زیرانتظام ہے۔ اس لیے شادی روکنے کے لیے خواتین پر حملہ کیاگیا۔ دونوں لڑکیوں کوگاڑی سے اتار کر ایک فوجی چھائونی لے جایا گیا۔ ان کے سر منڈوا دیئے گئے اور واپس حجۃ بھیج دیا گیا۔

قبائلی ذرائع کا کہنا ہے کہ حوثیوں نے نہ صرف دونوں خواتین کی شادی منسوخ کرادی بلکہ ان سے یہ تحریری عہد لیا کہ وہ حکومتی زیرانتظام علاقوں کے مردوں کے ساتھ شادی نہیں کریں گی۔