ہم اوباما نہیں، ایران پر سخت ترین دبائو ڈالیں گے:جون بولٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جون بولٹن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی مطالبات منوانے کے لیے ایران پر سخت ترین دبائو ڈالا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا میں اب باراک اوباما کی حکومت نہیں کہ ایران کے ساتھ نرمی برتی جائے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق آرمینینا کے دارالحکومت ایروان میں "آزادی ریڈیو" سے بات کرتے ہوئے جون بولٹن کا کہنا تھا کہ تہران کے حوالے سے امریکا کی موجودہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ آرمینیا اور ایران کے درمیان تجارتی تعلقات برقرار رہنا ایک مسئلہ ہے اور اس کا حل نکالیں گے۔

ایک سوال کے جواب میں امریکی قومی سلامتی کے مشیر کا کہنا تھا کہ آرمینیا کے وزیر اعظم آپ کے ملک کی ایران سے ملنے والی سرحد اہمیت کی حامل ہے۔ ہم ایران پر سخت ترین دبائو ڈال رہےہیں تاکہ وہ اپنی جوہری سرگرمیوں سے باز آئے،دہشت گردی کی حمایت اور پشت پناہی ترک کرے اور خطےمیں داخلت کی پالیسی ختم کرے۔ ہمیں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام، شام، عراق اور دوسرے علاقوں میں بڑھتی ایرانی سیاسی اور عسکری مداخلت پر بھی گہری تشویش ہے۔

جون بولٹن کا کہنا تھا کہ ہم اپنے دوستوں کو تکلیف نہیں پہنچانا چاہتے۔ ایران کے حوالے سےہماری پالیسی واضح ہے۔ توقع ہے کہ آرمینیا ایران کے خلاف ہمارے اقدامات میں امریکا کی مدد کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں