شامی فوج کی کارروائی ، تدمر میں داعش کے چنگل سے 19 دروز خواتین اور بچے بازیاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

شامی فوج نے وسطی شہر تدمر میں ایک چھاپا مار کارروائی کے بعد انیس دروز خواتین اور بچوں کو داعش کے چنگل سے بازیاب کرا لیا ہے۔ داعش نے انھیں جولائی میں السویدہ شہر اور اس کے نواحی دیہات سے حملوں کے دوران میں اغوا کر لیا تھا۔

داعش کے جنگجوؤں نے 25 جولائی کو صوبہ السویدہ کے نزدیک واقع صحرائی علاقے سے السویدہ شہر اور اس کے نواحی دیہات پر دھاوا بولا تھا اور خودکش بم دھماکے کیے تھے جن میں کم سے کم ڈھائی سو افراد ہلاک ہوگئے تھے اور وہ قریباً تیس افراد کو اغوا کرکے اپنے ساتھ لے گئے تھے۔

شام کےسرکاری ٹیلی ویژن نے جمعرات کو ایک نشریے میں بتایا ہے کہ یرغمالیوں کو تاریخی شہر تدمر ( پلمائرا) کے شمال مشرق میں واقع صحرائی علاقے سے بازیاب کرایا گیا ہے اور فوج نے وہاں داعش کے انتہا پسندوں کے خلاف اہدافی کارروائی کی ہے۔تاہم اس نے یہ نہیں بتایا کہ فوج نے یہ کارروائی کب کی تھی۔

اس گروپ میں شامل چھے یرغمالیوں کو اکتوبر میں بازیاب کرا لیا گیا تھا اور داعش نے اگست میں ایک یرغمالی کا سرقلم کردیا تھا۔ دروز حکام اور داعش کے درمیان ان یرغمالیوں کی رہائی کے لیے بات چیت بھی ہوئی تھی۔روس نے الگ سے بھی اس معاملے پر داعش سے بات چیت کی تھی۔

صوبہ السویدہ پر شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کی عمل داری چلی آرہی ہے ۔ السویدہ شہر اور اس کے نواحی علاقوں میں زیادہ تر دروز اقلیت کے لوگ آباد ہیں۔وہ شام میں جاری خانہ جنگی کی مخالفت کرتے رہے ہیں اور اس مذہبی اقلیت سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کی اکثریت شامی فوج میں ملازم ہے۔

روس کی خبررساں ایجنسی سپوتنک نے اکتوبر میں یہ انکشاف کیا تھا کہ اسد رجیم کی فورسز اور داعش کے درمیان چھے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ایک سمجھوتا طے پایا تھا اور داعش نے شامی حکومت کے زیر حراست اپنے سترہ ارکان کے بدلے میں ان کی رہائی سے اتفاق کیا تھا۔تاہم اس سمجھوتے پر عمل درآمد کی تفصیل معلوم نہیں ہوسکی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size