قطر اسرائیل کے راستے غزہ کے ملازمین کے لیے کیوں رقوم مہیا کررہا ہے؟
قطر نے غزہ کی پٹی کے سرکاری ملازمین کی تن خواہوں کی ادائی کے لیے اسرائیل کے راستے رقوم مہیا کرنا شروع کردی ہیں اور غزہ میں حماس کی انتظامیہ کو اسرائیل کی منظوری کے بعد ڈیڑھ کروڑ ڈالرز کی پہلی قسط مل چکی ہے جبکہ حماس کی مخالف فلسطینی جماعت فتح نے قطر کے اس اقدام کی مذمت کی ہے۔
فلسطینی صدر محمود عباس کے زیر قیادت فتح کا کہنا ہے کہ قطر فلسطینی دھڑوں کے درمیان تقسیم کو مزید پختہ کررہا ہے اور وہ فلسطینی خون کو ڈیڑھ کروڑ ماہانہ پر بیچ رہا ہے۔واضح رہے کہ قطر آیندہ چھے ماہ کے دوران میں اسرائیل کی منظور ی سے حماس کو ملازمین کی تن خواہیں ادا کرنے کے لیے کل نو کروڑ ڈالرز کی رقم دے گا۔
پہلی قسط کے طور پر ڈیڑھ کروڑ ڈالرز نقدی کی صورت میں قطر سے بذریعہ پرواز تل ابیب کے بن گورین بین الاقوامی ہوائی اڈے پر بھیجے گئے تھے۔وہاں سے پھر اس رقم کو غزہ میں قطری سفیر محمد العمادی کی کار کے ذریعے غزہ بھیجا گیا تھا۔ان کی یہ کار اسرائیل کی ایریز بارڈر کراسنگ سے گزر کر غزہ کے علاقے بیت حانون میں داخل ہوئی تھی۔
اسرائیلی میڈیا نے یہ انکشاف کیا ہے کہ غزہ میں جن فلسطینی ملازمین کو تن خواہیں ادا کی گئی ہیں یا کی جارہی ہیں، ان کی باقاعدہ سکیورٹی سکریننگ کی گئی ہے اور صرف ان ہی ملازمین کو واجبات ادا کیے گئے ہیں جن کی اسرائیل نے منظوری دی تھی اور دوسرے ملازمین کو خالی ہاتھ لوٹنا پڑا ہے۔
حماس کی حریف فتح نے غزہ میں سرکاری ملازمین کی تن خواہوں کی ادائی کے لیے اس بندوبست کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اس کو شرم ناک قرار دیا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ حماس نے ’ ’ حقِ واپسی‘‘ اور ’’ مزاحمت کے ہتھیار‘‘ کے نام سے حالیہ مہینوں کے دوران میں غزہ کی سرحد پر احتجاجی مظاہروں کے دوران میں دراصل فلسطینی نصب العین سے انحراف کیا ہے۔بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ حماس نے قطری رقم کی شکل میں اس احتجاجی تحریک کا پھل پا لیا ہے۔
حماس کے زیر انتظام 30 مارچ سے ہر جمعہ کو احتجاجی مظاہرے کیے جاتے رہے ہیں ۔اس دوران میں اسرائیلی فوجیوں نے مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کرکے 220 فلسطینیوں کو شہید کردیا ہے لیکن اب سردی میں اضافے اور بارشوں کی وجہ سے ان مظاہروں کی شدت میں کمی واقع آچکی ہے۔
فتح اور دوسرے ناقدین کا کہنا ہے کہ حماس کی اس تحریک کا مقصد غزہ کے ہزاروں ملازمین کے تن خواہوں کے بحران کو حل کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا تھا کیونکہ صدر محمود عباس کے زیر قیادت فلسطینی اتھارٹی حماس کی انتظامیہ کے تحت ان ملازمین کو تن خواہیں ادا کرنے سے انکار کرچکی تھی اور یہ ملازمین اور ان کے خاندان نانِ جویں کو ترسنے لگے تھے۔
لیکن اب قطر سے نقد رقم کی آمد کے بعد غزہ کی پٹی کے ہزاروں سرکاری ملازمین میں 12 ڈاک خانوں کے ذریعے تن خواہیں تقسیم کی گئی ہیں۔ وہاں قطر کے مبصرین بھی موجود تھے لیکن بہت سے ملازمین کو ان کے سرکاری واجبات ادا نہیں کیے گئے ہیں اور انھیں یہ کہہ کر تقسیمی مراکز سے خالی ہاتھ لوٹا دیا گیا تھا کہ انھیں ادا کرنے کے لیے رقم نہیں ہے جس کی وجہ سے فلسطینی مظاہرین نے غزہ میں جمعہ کو قطری سفیر کے قافلے پر پتھراؤ بھی کیا ہے۔اس واقعے کی ویڈیو کی سوشل میڈیا پر خوب تشہیر کی گئی ہے۔
حماس ، قطر اور اسرائیل کے حکام نے غزہ کے ملازمین کو تن خواہوں کی ادائی کے لیے اس انتظام کے بارے میں کوئی تفصیل جاری نہیں کی ہے اور انھوں نے خاموشی اختیار کررکھی ہے۔البتہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ایک وزیر ضیف الکین نے تل ابیب کے ایک ریڈیو اسٹیشن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ یہ رقم حماس کی سرگرمیوں کے لیے مہیا نہیں کی جارہی ہے بلکہ یہ ایک منظم طریقے سے سرکاری ملازمین کی تن خواہوں کی ادائی پر صرف کی جارہی ہے‘‘۔
انھوں نے کہا کہ ’’ فلسطینی صدر محمود عباس نے غزہ کو شعلوں کی لپیٹ میں دینے کے لیے رقوم ادا کرنے سے انکار کردیا تھا۔اس پر قطریوں نے رقم دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے تاکہ غزہ کو امن کی طرف لوٹایا جاسکے‘‘۔
لیکن تنظیمِ آزادی فلسطین ( پی ایل او ) کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن واصل ابو یوسف کا کہنا ہے کہ ’’اس انتظام کے ذریعے قطر یا دوسروں نے فلسطینیوں کے درمیان تقسیم کے بحران کو طول دینے ہی کی کوشش کی ہے‘‘۔