.

شام میں ایرانی 'تعلیمی یلغار' کے مذموم مقاصد کیا ہیں؟

شام میں ایران کی پانچویں درس گاہ قائم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی سرزمین اور وہاں کےعوام کو اپنی بالادستی میں رکھنے کے لیے ایران نے ہمہ جہت جنگ مسلط کررکھی ہے۔ ایک طرف ایرانی پاسداران انقلاب، ایران نواز ملیشیائیں اسد رجیم کی بقاء کے لیے میدان جنگ میں ہیں‌تو دوسری طرف ایران نے شام میں تعلیمی اور ثقافتی یلغار بھی شروع کر رکھی ہے۔ شام میں تعلیمی اداروں، جامعات اور مذہبی تعلیم دینے والے مراکز کا قیام جاری ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ ایران شام میں نئی نسل کو اپنے جال میں پھنسانے کے لیے ان کی تعلیم وتربیت پراثرانداز ہو رہا ہے یہی وجہ ہے کہ شام میں کئی تعلیمی ادارے، اسکول، کالج، مدارس اور جامعات قائم کی جا رہی ہیں۔ شام کے کئی سرکاری اداروں میں ایرانی تربیت تافتہ اساتذہ اور دیگر اسٹاف تعینات کی جاتا ہے۔

ایران کے اس مکروہ منصوبے کا مقصد شام میں‌ایک ایسی نسل تیار کرنا ہے جو مستقل میں تہران کے خطے میں‌ توسیعی پروگرام کو آگے بڑھانے میں اس کے کام آئے۔ شام میں ایران کے قائم کردہ پرائمری، مڈل اور ہائی اسکولوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ دوسری جانب حال ہی میں ایران نے شام میں ایک نئی یونیورسٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا ہے۔

ایرانی وزیرتعلیم اور سائنس وٹیکنالوجی منصور غلامی نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ تہران شام میں اساتذہ کی تعلیم تربیت کے لیے ایک نیا ادارہ قائم کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ادارہ نہ صرف اساتذہ کی خاص نہج پرتربیت کرے گا بلکہ اس جامعہ میں دیگر طلباء وطالبات کو بھی داخلہ دیا جائے گا۔

خیال رہے کہ ایرانے شام میں اب تک چار بڑی یونی ورسٹیاں قائم کی ہیں۔ المصطفیٰ یونی ورسٹی، الفارابی، آزاد اسلامی یونیورسٹی، اسلامی مذاہب کالج ایران کی قائم کردہ جامعات ہیں۔ ان میں ایرانی نظام اور نصاب کے مطابق طلباء کو تعلیم دی جاتی ہے۔

شام میں ایران کے دینی مدارس

حال ہی میں جب ایران نے شام میں نئی یونیورسٹی کےقیام کا اعلان کیا تو مبصرین کی توجہ شام میں ایرانی تعلیمی سرگرمیوں پرمرکوز ہوئی۔ اساتذہ کی تربیت کے حوالے سے اس مجوزہ یونیورسٹی کی دیگر تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی "ارنا" نے شام میں ایرانی یونیورسٹی کی خبر دی مگر اس کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم اتنا کہا گیا ہے کہ یہ پروگرام تعاون اور مہارات کے تبادلے کا حصہ ہے جو ایران اور اسد رجیم کے درمیان پہلے سے جاری ہے۔

خبر رساں ایجنسی "سانا" کے مطابق شام کے ایک رکن پارلیمان حسین راغب الحسین نے دمشق میں ایک اسٹڈی سینٹر کےقیام کی تجویز پیش کی تھی جو شام اور ایران کی وزارت تعلیم کے تعاون سے سائنس وٹیکنالوجی کے میدان میں کام کرے گا۔

شام میں ایران کے تعلیمی اداروں کے قیام کی یہ پہلی تجویز نہیں۔ اس سے قبل ایران الرسول الاعظم کے نام سے مذہبی مدارس قائم کرچکا ہے۔