.

یمن: تعز یونیورسٹی کے سربراہ پر قاتلانہ حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں نامعلوم مسلح افراد نے تعز یونیورسٹی کے سربراہ ڈاکٹر محمد الشعيبی کی گاڑی کو فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ اس کے نتیجے میں الشعیبی شدید زخمی جب کہ ان کا ایک ساتھی جاں بحق ہو گیا۔ ڈاکٹر الشعیبی کو تعز شہر کے ایک ہسپتال میں انتہائی طبی نگہداشت کے شعبے میں رکھا گیا ہے۔

تعز یونیورسٹی کی اکیڈمک کونسل نے ایک ہنگامی اجلاس میں مؤرخہ 21 نومبر بروز بدھ سے تدریسی عمل معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ علاوہ ازیں یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو نشانہ بنائے جانے کی صورت میں اس کی ذمے داری سکیورٹی حکام پر عائد کی۔

اس سے قبل تعز یونیورسٹی تعز یونیورسٹی کے سکریٹری جنرل عبدالرحمن حاجب کو بھی مسلح افراد کی جانب سے حملے کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ عسکری اہل کاروں کے حلیے میں ملبوس نامعلوم افراد نے یونیورسٹی کے سکریٹری جنرل کی گاڑی کو اغوا کر لیا تھا جب کہ ان کی فائرنگ کے سبب جائے وقوع سے گزرنے والا ایک راہ گیر معمولی زخمی بھی ہو گیا تھا۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ تعز صوبے کو سکیورٹی اداروں اور مسلح ملیشیاؤں کے درمیان رسہ کشی کے نتیجے میں امن و امان کی مخدوش صورت حال کا سامنا ہے۔ مذکورہ ملیشیائیں صوبے میں انارکی پھیلا کر امن و امان کی صورت حال کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔