.

ایران 2015ء کے جوہری معاہدے پر امریکا سے دوبارہ بات چیت نہیں چاہتا : جواد ظریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کا کہنا ہے کہ اُن کا ملک امریکا کے ساتھ اُس وقت تک نئے جوہری مذاکرات نہیں کرے گا جب تک اس امر کی ضمانت نہیں دی جاتی کہ طے پائے جانے والے کسی بھی معاہدے سے دست بردار نہیں ہوا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 2015ء میں ایران اور بڑی عالمی قوتوں کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے کو ایک "آفت" قرار دے کر رواں سال مئی میں اس سے علاحدہ ہو گئے تھے۔

ایرانی وزیر خارجہ اٹلی کے شہر روم میں ایک بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مزید بات چیت کرنے کے لیے ٹرمپ کے امریکا کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔

جواد ظریف کے مطابق 150 صفحات پر مشتمل جوہری معاہدے کی دستاویز پر ٹرمپ کے اعتراض کی وجہ سابق صدر باراک اوباما کے لیے "نا پسندیدگی کے جذبات" ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "یہ سفارتی عمل کا کوئی سبب نہیں ہے ،،، سفارت کاری ایک سنجیدہ کھیل ہے اور ہم سنجیدہ کھیل کے لیے تیار ہیں"۔

جوہری معاہدے سے امریکا کی علاحدگی کے باوجود ایران اور معاہدے کے بقیہ فریق اس سمجھوتے کو برقرار رکھنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔