سعودی عرب اور مصر میں قطر کو رعایتیں نہ دینے اور ایران کی مداخلت سے نمٹنے پر اتفاق
سعودی عرب اور مصر نے قطر کو کسی قسم کی رعایتیں نہ دینے سے اتفاق کیا ہے اور ان کا کہنا ہے کہ اگر قطر عرب خلیجی ممالک کی پیش کردہ شرائط کو پورا کرے تواس کے ساتھ مصالحت ہوسکتی ہے۔انھوں نے ایران کی خطے کے ممالک کے داخلی امور میں مداخلت سے نمٹنے سے بھی اتفاق کیا ہے۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے قاہرہ میں واقع اتحادیہ صدارتی محل میں منگل کے روز مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات کی ہے اور ان سے دونوں ممالک کے درمیان قریبی دوستانہ تعلقات اور علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے۔انھوں نے اپنے اس موقف کا اعادہ کیا ہے کہ قطر کو مصالحت کے لیے گذشتہ سال پیش کردہ شرائط اب بھی برقرار ہیں اور ان میں اسے کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
دونوں لیڈروں نے کہا کہ مصر اور سعودی عرب خطے کے ممالک کے داخلی امور میں ایران کی مداخلت کا مقابلہ کرتے رہیں گے۔صدر السیسی نے بتایا کہ انھوں نے سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو ایک خط بھیجا ہے اور اس میں خلیج کی سکیورٹی کے لیے مصر کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
دونوں لیڈروں کی ملاقات میں مصر اور سعودی عرب کے درمیان ماضی میں طے شدہ سمجھوتوں پر عمل درآمد سے بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
سعودی ولی عہد سوموار کی شب خطے کے ملکوں کے دورے کے تیسرے مرحلے میں قاہرہ پہنچے تھے ۔ صدر السیسی نے بہ نفس نفیس ان کا استقبال کیا تھا۔اس سے پہلے انھوں نے بحرین اور متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا ہے۔
شہزادہ محمد بن سلمان کی ارجنٹینا کے شہر بیونس آئرس میں اسی ماہ گروپ 20 کے سربراہ اجلاس میں شرکت بھی متوقع ہے۔اس اجلاس میں امریکا ، ترکی اور بعض یورپی ممالک کے لیڈر شرکت کریں گے۔