عراق کی سکیورٹی کے لیے خطرہ بننے والے عناصر کی سزا کے واسطے امریکی قانون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکی پارلیمنٹ میں ایک نئے قانون کا بل منظور کیا گیا ہے۔ بل میں امریکی انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایران، اس کے زیر انتظام ملیشیاؤں اور ان تمام دہشت گرد تنظیموں پر پابندیاں عائد کی جائیں جو عراق کے امن و استحکام کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔

مذکورہ قانون کے مطابق "عصائب اهل الحق" اور "حزب الله بریگیڈز" یہ دونوں تنظیمیں اس قانون کی لپیٹ میں آئیں گی اور ان کے مالی اثاثے اور تمام وسائل منجمد کرنے کے علاوہ ان کو امریکا میں داخل ہونے کا ویزا جاری نہیں کیا جائے گا۔

قانون کے بل میں اس بات کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا ہے کہ امریکی صدر عراق میں ان افراد اور گروپوں کا تعین کریں جن کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں درج کرنے کے بعد ان پر پابندیاں عائد کی جانی چاہئیں۔ علاوہ ازیں کانگریس میں ایک رپورٹ بھی پیش کی جائے جس میں ان گروپوں کے بارے میں تفصیل بیان کی گئی ہو۔

اسی طرح قانون کے بل میں وزارت خارجہ پر یہ لازم کیا گیا ہے کہ وہ ان مسلح تنظیموں کی فہرست تیار کرے جن کو ایرانی پاسداران انقلاب کی جانب سے سپورٹ مل رہی ہے۔

یہ بل ان تمام افغان اور پاکستانی گروپوں پر بھی پابندیاں عائد کرے گا جو شام میں بشار حکومت کے شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں اور ان کی فنڈنگ ایرانی نظام کی جانب سے کی جا رہی ہے۔

اس سے قبل امریکی پارلیمنٹ نے قانون سازی کے ذریعے عراقی تنظیم عصائب اھل الحق اور "النجباء" موومنٹ پر پابندیوں کے لیے بل منظور کیا تھا۔ یہ دونوں تنظیمیں شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی میں شامل ہیں۔

عراقی تنظیموں عصائب اهل الحق اور النجباء موومنٹ کے علاوہ حزب الله بریگیڈز بھی شامی انقلابی تحریک شروع ہونے کے بعد شامی حکومت کے شانہ بشانہ لڑائی میں شریک ہو چکا ہے۔

سال 2014 میں عراق میں وسیع رقبے پر داعش تنظیم کے قبضے کے بعد شیعہ مرجع کی جانب سے فتوے کے ذریعے الحشد الشعبی کی تشکیل عمل میں آئی تھی۔ یہ ملیشیا شیعہ عسکری گروپوں پر مشتمل ہے جن میں اکثر گروپوں کا ایران سے قریبی تعلق ہے۔ بعد ازاں عراقی پارلیمنٹ نے گزشتہ برس الحشد الشعبی کو عراق کے دفاع نظام کا ایک حصہ قرار دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں