ایران : اہواز اسٹیل کے ورکرز کی ہڑتال 17 روز سے جاری
ایران میں اتوار کے روز سوشل میڈیا پر "اہواز اسٹیل کمپنی" کے ورکرز کی ہڑتال سے متعلق خبروں کا چرچا رہا جو گزشتہ 17 روز سے جاری ہے۔ سوشل میڈیا پر صبح سے ہی اہواز کی سڑکوں پر اور سرکاری محکموں کے سامنے ورکرز کے احتجاجی مظاہروں کی تصاویر اور وڈیو کلپس گردش میں رہیں۔
ورکرز کی جانب سے لگائے جانے والے نعروں میں "تم لوگوں نے اسلام کو سیڑھی بنا کر لوگوں کو ذلیل کیا" ، "نصر من الله وفتح قريب" ، "دھوکے باز حکومت مردہ باد" ، "شام کو چھوڑ کر ہمارے حال کی فکر کرو" اور "انتخابات میں شرکت کی قیمت مہنگائی" شامل ہیں۔
یاد رہے کہ "اہواز اسٹیل کمپنی" پہلے ریاست کی ملکیت میں تھی تاہم بدعنوانی کے معاملات کے بعد اس کی نج کاری عمل میں لائی گئی۔
الیوم الثالث والعشرون لاحتجاجات عمال مصانع الفولاذ فی #الاهواز
— AhwazHumanRights Org (@AhwazAhro) December 2, 2018
هتاف للنظام الایرانی: اترکوا #سوریا وفکروا بحالنا pic.twitter.com/9qLMZGQtcK
ورکرز کی احتجاجی تحریک کا آغاز اس وقت ہوا جب انہوں نے کئی ماہ سے تاخیر کا شکار اپنی تنخواہوں کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ ورکرز کے پر امن احتجاج کے باوجود حکام کی جانب سے جوابی اقدام کے طور پر سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری کو تعینات کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں فریقین کے درمیان تصادم کی نوبت آ گئی۔ ورکرز کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران مظاہرین کی گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں۔
دوسری جانب حکومتی عہدے داران کی جانب سے جھوٹا پروپیگنڈا کیا جاتا رہا کہ ریاست نے ورکرز کی دو ماہ کی تنخواہیں ادا کر دی ہیں اور پیداوار ایک بار پھر شروع ہو گئی ہے۔
ایسا نظر آ رہا ہے کہ اہواز اسٹیل کے ورکروں کو احساس ہو گیا ہے کہ ایرانی ذمے داران کے ساتھ بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ لہذا ان لوگوں نے اپنے مطالبات کے پورے ہونے تک مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
"سوریه رو رها کن فکری به حال ما کن"
— Tavaana توانا (@Tavaana) December 2, 2018
این صدای #کارگران به ستوهآمده و کارد به استخوان رسیدهی #گروه_ملی_فولاد_اهواز است.
دیگر چگونه بگویند که مخالف مداخلهی رژیم حاکم بر ایران در امور کشورهای دیگر و هزینهی سرمایهی ملی در آن کشورها هستند؟ pic.twitter.com/PwYA3V0zJh
اہواز اسٹیل کے ورکروں کے مطابق ان کے اہم مطالبات میں نج کاری کی جانے والی کمپنیوں کی سرکاری سیکٹر میں واپسی اور ورکرز یونین کے سرگرم کارکن اسماعیل بخشی سمیت گرفتار کیے جانے والے تمام ورکرز کی رہائی شامل ہے۔ انجمن کے ورکروں کا کہنا ہے کہ بخشی کو دوران حراست زدوکوب کے دوران سر اور چہرے پر مارا گیا جس کے نتیجے میں اس کا چہرہ سوج گیا ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ رواں سال ایران میں سرکاری اور غیر سرکاری سیکٹروں میں ورکروں کی جانب سے احتجاجی سلسلے میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔