اسرائیلی قبضہ خطے کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے: اردن
اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی قبضے کا جاری رہنا خطے کے امن و استحکام کے لیے "سب سے بڑا خطرہ" ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعے کے روز اردن کے دارالحکومت عمان میں اپنے جاپانی ہم منصب تارو کونو سے ملاقات کے دوران کہی۔
بات چیت کے دوران الصفدی نے خبردار کیا کہ "فلسطینی اراضی پر اسرائیلی قبضے کا جاری رہنا اور فلسطینی عوام کے لیے انصاف کا حقیقی افق تلاش کرنے میں ناکام رہنا کہ دو ریاستی حل کے تحت 4 جون 1967 کی سرحد پر ایک فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آ سکے جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو، یہ امر خطے کے امن و استحکام کے واسطے سب سے بڑا خطرہ ہے"۔
اردن کی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق دونوں وزراء خارجہ کے درمیان ملاقات میں خطے میں رونما ہونے والی پیش رفت بالخصوص فلسطینی اسرائیلی تنازع، شام کا بحران اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے معاملات زیر بحث آئے۔
یاد رہے کہ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات 2014 سے معطل ہیں اور واشنگٹن کی جانب سے اسرائیل میں اپنے سفارت خانے کو بیت المقدس منتقل کرنے کے فیصلے کے بعد فلسطینی اتھارٹی اور امریکی انتظامیہ کے درمیان بات چیت کا سلسلہ بھی منقطع ہو گیا۔
-
اسرائیل کی اردن کو سرحدی علاقوں کے معاملے پر مشاورت کی درخواست
اردن کی حکومت نے اتوار کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ اسے اسرائیل کی طرف سے ایک ...
مشرق وسطی -
اردن اسرائیل کے ساتھ سرحدی زمین کی لیز کے سمجھوتے میں توسیع نہیں کرے گا:شاہِ عبداللہ
اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے وادی عربہ معاہدے کی ایک شق ختم کردی ہے اور ...
مشرق وسطی -
اردن نے ’کنفیڈریشن‘ سے متعلق فلسطینی تجویز مسترد کردی
اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم نے بدھ کے روز ایک بیان میں فلسطین کے ساتھ ...
مشرق وسطی