.

سوڈان : حکومتی فورس کو تتر بتر کرنے کے لیے مختلف مظاہروں کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان میں پیشہ وارانہ افراد کی انجمن Sudanese Professionals Association نے مطالبہ کیا ہے کہ اتوار کے روز صدارتی محل کی جانب تیسری ریلی نکالی جائے اور آئندہ بدھ کے روز ام درمان میں پارلیمنٹ کا رخ کیا جائے تا کہ موجودہ حکومت کے رخصت ہونے کے مطالبے کی یادداشت پیش کی جا سکے۔

گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران ملک میں سرگرم مختلف انجمنیں مذکورہ ایسوسی ایشن میں شامل ہو چکی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کل جمعے کے روز سوڈان کے تمام شہروں میں "آزادی اور تبدیلی کا جمعہ" کے نام سے سڑکوں پر نکلا جائے۔

ایسوسی ایشن اور اس کے شرکاء نے باور کرایا ہے کہ وہ ملک بھر میں رات کے وقت مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھیں گے تا کہ حکومتی فورس کو تتر بتر کیا جا سکے۔ انہوں نے تمام سیکٹروں میں عوام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سیاسی ہڑتال اور سول نافرمانی کے لیے کمیٹیاں تشکیل دیں۔

یاد رہے کہ حکومت کی جانب سے گزشتہ ماہ روٹی اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد 19 دسمبر سے دارالحکومت خرطوم سمیت متعدد شہروں میں عوام کا احتجاج بھڑک اٹھا۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق مظاہروں میں اب تک کم از کم 19 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ قیمتوں کے خلاف یہ احتجاج بہت جلد خرطوم اور دیگر علاقوں میں حکومتی پالیسی پر تنقید کے لیے عوامی ریلیوں میں تبدیل ہو گئی۔

احتجاجی تحریک کے ابتدائی دنوں کے دوران مظاہرین نے حکمراں پیپلز کانگریس پارٹی کے زیر انتظام متعدد عمارتوں اور دفاتر کو نذر آتش کر دیا۔ بعد ازاں ہنگامہ آرائی کے انسداد کی فورس نے ان ریلیوں کو منتشر کر دیا۔

واضح رہے کہ اکتوبر 2017 سے سوڈان پر عائد امریکی پابندیوں ک اٹھائے جانے کے باجود ملک کو غیر ملکی زرمبادلہ اور افراط زر کے بحران کا سامنا ہے۔