معذور سعودی نے سمندر میں غوطہ خوری کا چیلنج کیسے قبول کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے ایک معذور شہری نے غوطہ خوری کا شوق پورا کرنے کے لیے اپنی معذوری کو بھی آڑے نہیں آنے دیا اور اس نے آخر کار سمندر کی گہرائی میں غوطہ خوری کا مظاہرہ کرکے یہ ثابت کیا ہے کہ آدھےجسم سے معذور ہوکربھی انسان ہمت کرے تو سمندر کی گہرائی میں غوطہ خوری کرسکتا ہے۔

سمندر کی گہرائی میں اترنے اور غوطے لگانے والے سعودی شہری حسن الزھرانی کو غوطہ خوری کا بہت شوق ہے۔ اس نے اپنے شوق کی تسکین کے لیےباقاعدہ غوطہ خوری کی تربیت حاصل کی اور آدھا جسم مفلوج ہونے کے باوجود اس نے مغربی سعودی عرب کے بحر الاحمر میں سمندر میں گہرائی میں دیر تک غوطےلگائے۔

چالیس سالہ "حسن الزھرانی" نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں‌نے اپنے دوست خالد الدھلوی کے ہمراہ کئی مراحل میں غوطہ خوری کی تربیت حاصل کی۔ دنیا بھر میں معذوروں کے لیے بھی غوطہ خوری کی تربیت کےکورس کرائے جاتے ہیں۔ اسے درپیش مشکلات میں مشکل راستے کے تھی کیونکہ وہیل چیئر پر سمندر تک پہنچنا بہت مشکل تھا۔ اس کے بعد میں‌نے پپیراکی کا لباس زیب تن کرنے کی تربیت حاصل کی، آکسیجن اور دیگر آلات نصب کرنے اور پائوں کے حرکت نہ کرنے کے باوجود خود کو غوطہ خوری کے قابل کیا۔

ایک سوال کے جواب میں اپنی معذوری کے بارے میں بات کرتے ہوئے الزھرانی نے کہا کہ میں 27 سال پیشتر ایک ٹریفک حادثے کے نتیجےمیں معذور ہوگیا تھا۔ میں معذوری کے باوجود سعودی ایئرلائن میں ملازمت کرتا ہوں اور غوطہ خوری کا اپنا شوق پورا کرنے کے لیے بھی میں نے ہرممکن کوشش کی۔ مجھے عالمی سطح پر غوطہ خوری کا اجازت نامہ مل چکا ہےاور اب میں سمندر میں غوطہ خوری کرسکتا ہون۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں حسن الزھرانی نے کہا کہ میں سمندر کی گہرائی میں اتر کر اس کے راز جاننا چاہتا ہوں۔ اس کا کہنا تھا کہ غوطہ خوری کے لیے جدید آلات کی تیاری نے آسانیاں پیدا کی مگراس میں اب بھی بہت سی مشکلات درپیش ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں