انقلاب کے بعد مشکل ترین اقتصادی بحران کا سامنا ہے : روحانی کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کے پیچھے رہ جانے کی وجہ وہ شدید اقتصادی دباؤ ہے جس کا سامنا انقلاب کے بعد سے کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا مسئلہ "بنیادی طور پر امریکا کی جانب سے ڈالے جانے والے دباؤ کے ساتھ وابستہ ہے"۔

ایرانی انقلاب کے حوالے سے بدھ کے روز ایک ایونٹ کے دوران روحانی کا کہنا تھا کہ "حکومت کو اس وقت دشمنوں کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کا دشوار مشن درپیش ہے تا کہ اسلامی انقلاب کے خلاف بڑے اقتصادی دباؤ سے نمٹا جا سکے"۔

صدر روحانی نے جوہری معاہدے کے مخالفین پر کڑی تنقید کی ۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو درپیش مسائل کی بنیادی وجہ امریکی دباؤ ہے۔ روحانی نے حکومت مخالف عناصر پر زور دیا کہ وہ ایران میں حکومت یا نظام کے بجائے امریکا کو ملامت کا نشانہ بنائیں۔

دو ہفتے قبل ایران کے نائب صدر محمود باقر نوبخت نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران کو تیل کی برآمدات میں بڑی مشکل کا سامنا ہے۔ نوبخت نے "امریکا کی شرانگیزی" بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس مشکل کا سبب قرار دیا۔

اگرچہ ایرانی صدر روحانی نے یہ اعلان کیا کہ اُن کے ملک کو 40 برسوں کے مشکل ترین اقتصادی بحران کا سامنا ہے تاہم ان کا یہ بھی دعوی ہے کہ جنوری 2018 سے شروع ہونے والی حالیہ محاذ آرائی میں امریکا کو سیاسی، قانونی اور نفسیاتی سطح پر پے درپے ہزیمتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ روحانی کا اشارہ دسمبر 2017 اور جنوری 2018 میں ایران کے شہروں میں بھڑکنے والے عوامی احتجاج کی جانب تھا۔

روحانی نے باور کرایا کہ امریکا اس جنگ میں ناکامی کا منہ دیکھے گا اور اسے ہزیمتوں سے دوچار ہونا پڑے گا جن میں اقتصادی میدان خاص طور پر شامل ہے۔

روحانی کا یہ بھی کہنا تھا کہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی پالیسیوں کی پیروی اُن بین الاقوامی کارستانیوں کے مقابلے کے دوران ملک کے تحفظ کی ضمانت ہے جن کا مقصد ایرانی نظام کو نقصانات پہنچانا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں