.

یمن : الحدیدہ معاہدے پر عمل میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے حوثیوں کی نئی شرائط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حکومت کے مذاکراتی وفد کے رکن عسکر زعیل نے باور کرایا ہے کہ حوثیوں نے نئی شرائط وضع کر کے الحدیدہ شہر سے متعلق معاہدے کے پہلے مرحلے پر عمل درامد میں رکاوٹیں ڈالنے اور ٹال مٹول کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ امر ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب منگل کے روز سلامتی کونسل میں یمنی فریقوں کے درمین سویڈن معاہدے کے نفاذ کو زیر بحث لایا جا رہا ہے۔ اس موقع پر یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی مارٹن گریفتھس معاہدے کی شقوں کے نفاذ کے حوالے سے سلامتی کونسل کے ارکان کو عمّان سے بریفنگ دیں گے۔

عسکر زعیل نے پیر کی شب بتایا کہ الحدیدہ میں نئی صف بندی سے متعلق کمیٹی میں شامل حکومتی ٹیم نے اسٹاک ہوم معاہدے کے مطابق عمل درامد پر اپنی موافقت ارسال کر دی ہے۔ انہوں نے حوثی قیادت کے اس الزام کی تردید کی کہ حکومت کی جانب سے معاہدے پر عمل درامد میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ زعیل کے مطابق معاہدے کے جس پہلے مرحلے پر اتفاق رائے ہوا ہے اس میں الحدیدہ کی بندرگاہوں سے حوثی ملیشیا کا انخلا شامل ہے ،،، البتہ ملیشیا نئی عمل درامد کے واسطے نئی شرائط وضع کر کے ٹال مٹول کی کوشش کر رہی ہے۔

دوسری جانب یمن کی حکومت کے ایک ذمے دار ذریعے کا کہنا ہے کہ الحدیدہ سے متعلق اسٹاک ہوم معاہدے کے پہلے مرحلے پر عمل درامد کے سلسلے میں سامنے آنے والا اتفاق رائے زیادہ اہمیت کا حامل نہیں۔ ذریعے کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سویڈن معاہدے پر سے چھلانگ لگانے کے مترادف ہے جس کے متن میں الحدیدہ شہر اور اس کی بندرگاہوں سے سے ہر قسم کی ہتھیاروں کی نمائش کا خاتمہ شامل ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ یمن میں متحارب فریقوں کی جانب سے الحدیدہ کی بندرگاہوں سے انخلا پر فوری عمل درامد سامنے آئے گا۔ اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے پیر کی شام صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ انخلا میں بحر احمر کی فلور ملز سے فورسز کا ہٹایا جانا بھی شامل ہے۔

یاد رہے کہ معاہدے کا پہلا مرحلہ اس بات کا متقاضی ہے کہ حوثی ملیشیا کے عناصر الحدیدہ، الصلیف اور راس عیسی کی بندرگاہوں سے نکل کر پانچ کلو میٹر کے فاصلے پر چلے جائیں، انسانی امداد کی وصولی کو آسان بنایا جائے اور امدادی اہل کاروں کے لیے راہ داریاں کھول دی جائیں تا کہ وہ بحر احمر کی فلور ملز تک پہنچ سکیں۔

تاہم تمام موافقتوں کے باوجود بعض دیگر اختلافات نمایاں ہو کر سامنے آئے ہیں۔ ان میں اہم ترین ان مقامی حکام کی نوعیت ہے جو الحدیدہ شہر اور اس کی بندرگاہوں کے انتظامی امور کو سنبھالیں گے۔