سعودی عرب کے اسکولوں میں چینی زبان سکھانے کے منصوبے کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کے دورہ چین کے موقع پر جہاں دونوں ملکوں کے درمیان تزویراتی اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے کئی معاہدے طے پائے ہیں وہیں دونوں قوموں کے درمیان دوستی کو مزید گہرائی تک لے جانے کے لیے سعودی عرب کے تعلیمی اداروں میں چینی زبان سکھانے کے منصوبے کا بھی آغاز کیا جا رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب کے تعلیمی اداروں اوراسکولوں میں چینی زبان سکھانے کا منصوبہ چین کی اہمیت اور دونوں ملکوں‌کے درمیان جاری تعلقات کو مستقبل میں مزید مستحکم کرنا ہے تاکہ دونوں ملک مستقبل میں ایک دوسرے کی اقتصادی قوت اور سرمایہ کاری کے موقع سے بھرپور طریقے سے فائدہ اٹھا سکیں۔

سعودی عرب چینی کلچر اور ثقافت سے آگاہی کے لیے چینی طلباء‌ کو اپنے ہاں تعلیم کے حصول کی اجازت دے گا اور ویژن 2030 کے اہداف کے حصول کے لیے سعودی عرب میں چینی زبان سے آگاہی کو یقینی بنایا جائے گا۔

مبصرین کا خیال ہے کہ سعودی عرب میں چینی زبان سکھانے کے کورسز کا آغاز دونوں ملکوں میں تعلیمی افق میں اہم پیش رفت ثابت ہوں‌ گے۔ چینی زبان سعودی اور چینی قوموں کے درمیان پل کا کام کرے گی اور دونوں قوموں کے درمیان تجارتی اور اقتصادی روابط میں اضافہ ہوگا۔

سعودی عرب کے تعلیمی اداروں میں چینی زبان سکھانے سے یہ واضح ہو رہا ہے کہ ریاض بیجنگ کو کس قدر اقتصادی اہمیت دیتا ہے۔ چین سعودی عرب کے لیے بہت بڑا اقتصادی شراکت دار ہوسکتا ہے۔ چین اس وقت دنیا کی دوسری بڑی معاشی طاقت ہے اور سعودی عرب چینی اقتصادی حجم سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

سعودی عرب میں چینی زبان سکھانے سے سعودیہ میں چینی سیاحوں کی آمد کا ذریعہ بھی بنے گا۔ اس طرح دونوں ملکوں کو سیاحت کے شعبے میں بھی فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔ سعودی عرب میں چینی زبان سکھانے کے کورسز کے ذریعے 50 ہزار افراد کو روزگار ملے گا جب کہ سالانہ 2 کروڑ چینی سیاح سعودی عرب میں سیاحت کی غرض سے آئیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں