.

شاہ سلمان کا سعودی عرب میں قید لاتعداد مصریوں کی رہائی کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدلعزیز اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے ہفتے کے روز شرم الشیخ میں ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیا ل کیا ہے۔شاہ سلمان نے اس موقع پر سعودی عرب کی جیلوں میں قید یا زیر حرا ست لاتعداد مصری شہریوں کی رہائی کا حکم دیا ہے۔

انھوں نے یہ ملاقات عرب لیگ اور یورپی یونین کے لیڈروں کے پہلے مشترکہ سربراہ اجلاس سے ایک روز قبل کی ہے۔

دونوں رہ نماؤں نے مصر اور سعودی عرب کے درمیان قریبی تعلقات کا جائزہ لیا اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کے امکانات اور انھیں مزید ترقی دینے کے طریقوں پر بات چیت کی ہے۔اس کے بعد شاہ سلمان اور مصری صدر کی موجودگی میں دونوں ملکوں کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات کا دور ہوا۔

ملاقات کے دوران میں انھوں نے بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے ساتھ و اقع ممالک پر مشتمل کونسل برائے عرب اور افریقی ساحلی ریاستیں تشکیل دینے کی اہمیت پر زور دیا۔

شاہ سلمان نے صدر عبدالفتاح السیسی سے ملاقات میں سعودی عرب کی جیلوں میں مختلف جرائم کی پاداش میں قید یا زیر حراست سیکڑوں مصری شہریوں کی رہائی کا حکم دیا ہے۔ان میں بہت سے مصری تارکین وطن سعودی عرب کے اقامتی قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیے گئے تھے اور وہ قانونی طور پر اپنے ملک میں واپسی کے لیے جرمانہ ادا کرنے میں ناکام رہے تھے۔

ایس پی اے کے مطابق الریاض میں مصری سفار ت خانہ متعلقہ سعودی حکام سے ان کی جلد واپسی کے لیے رابطے میں رہے گا۔

بحیرہ احمر کے کنارے واقع ساحلی سیاحتی مقام شرم الشیخ میں دو علاقائی تنظیموں عرب لیگ اور یورپی یونین کے لیڈروں کا پہلا دوروزہ اجلاس اتوار سے شروع ہورہا ہے۔اس میں تارکین وطن ،سلامتی اور موسمیاتی تبدیلی ایسے امور سمیت مشترکہ تزویراتی ترجیحات کے بارے میں تبالہ خیال کیا جائے گا اور ان شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے پر غور کیا جائے گا۔ اقتصادی ترقی، فلسطینی تنازع اور لیبیا، شام اور یمن میں جاری تنازعات پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

دریں اثنا، مصری ،سعودی کاروباری کونسل کا فورم مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں شروع ہوگیا ہے۔اس فورم میں مقررین سعودی عرب اور مصر کے درمیان مختلف شعبوں میں قریبی تعلقات اور انھیں مزید فروغ دینے کے حوالے سے اظہار خیال کریں گے۔