.

سوڈان: ایمرجنسی کو مستحکم کرنے کے لیے نئے صدارتی احکامات جاری

ملک بھرمیں جلسے جلوسوں پرپابندی، پولیس کو وسیع اختیارات حاصل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کے صدر عمرالبشیر نے ملک میں ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد چارنئے احکامات جاری کیے ہیں جن میں‌پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو وسیع اختیارات دیے گئے ہیں۔

العربیہ چینل کی رپورٹ کےمطابق نئے جاری کردہ احکامات میں قانون نافذ کرنے والےاداروں کو مکمل قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔

ان احکامات کے تحت ملک میں شہریوں کے جلسے جلوسوں، ریلیوں، مظاہروں، اجتماعات، ہڑتالوں اور پبلک مقامات کو بند کرنےپر پابندی عاید کی گئی ہے۔ غیرملکی کرنسی میں لین دین، بنکوں سے رقوم نکالنے کی حد مقررکرنے کے بندرگاہوں اور دیگر گذرگاہوں سے نقدی اور سونا لے جانے کے حوالے سے بھی نئے اور سخت ضوابط وضع کرنے کے ساتھ ساتھ ایندھن اور حکومتی سبسڈی والے سامان کو ذخیرہ کرنے پر بھی پابندی عاید کی گئی ہے۔

ان تمام احکامات کل پچیس فروری سے نفاذ ہوگا اور ایمرجنسی کے خاتمے تک یہ احکامات نافذ العمل رہیں گے۔ ایمرجنسی آرڈ نمبرایک مجریہ 2019ء میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو وسیع اختیارات سونپے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں مکمل قانونی تحفظ دیا جائے گا۔ پولیس کو کسی بھی مکان میں داخل ہونے ، تلاشی لینے اور کسی بھی شخص سے پوچھ تاچھ کی اجازت ہوگی۔

املاک اور عمارتوں پر پولیس کو نظر رکھنے کی اجازت ہوگی۔

خلاف قانون املاک، دکنیں اور مشکوک سامان کو قبضے میں لینے اور ان کے خلاف عدالتوں میں‌مقدمات چلانے کی اجازت ہوگی۔
تنظیم سازی، اس کی نقل وحرکت، مواصلاتی آلات کے استعمال اور اس طرح کے کسی بھی اقدام پر پابندی عاید کی گئی ہے۔
ایمرجنسی سے منسلک کسی بھی جرم میں‌ملوث شخص کو فوری گرفتار کرلیا جائےگا۔

نئے ہنگامی اقدامات میں پراسیکیوٹر جنرل کو قانونی تحفظ ختم کرنے کے حوالے سے رپورٹ تیار کرنے کا اختیار ہوگا۔
ایمرجنسی قانون نمبر 2 مجریہ 2019ء میں عوام الناس کے اجتماعات،جلسے جلوسوں اور غیر مجاز مظاہروں پر پابندی ہوگی۔ سڑکیں اور پبلک مقامات بند کرنے، ٹرانسپورٹ اور دیگر وسائل کے غلط استعمال کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔ پولیس کو شہریوں کی جان ومال کی حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کی اجازت ہوگی۔

ایمرجنسی آرڈر نمبر دو میں ملک اور عوام کے مفادات کو نقصان پہنچانے یا حکومت کی بدنامی کا موجب بننے والی خبروں کی اشاعت پر پابندی ہوگی۔ نفرت، تعصب اورفرقہ پھیلانے کے والے لٹریچر پرپابندی عاید ہوگی۔

مذکورہ تمام احکامات کی خلاف ورزی کا مرتکب، ان قوانین کے خلاف عوام کو اکسانے، مزاحمت یا کوئی دوسرا راستہ اختیار کرنے والے شخص کو کڑی سزا دی جائے گی۔ ہنگامی قوانین کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا اور الزامات پر انہیں10 سال تک قید کی سزا دی جائے گی۔

ایمرجنسی قانون نمبر 3 مجریہ 2019ء میں غیرملکی کرنسیوں میں لین دین پر پابندی کے ساتھ رقوم کی بیرون ملک منتقلی کے ضوابط بھی سخت کردیئے گئے ہیں۔

کوئی بھی شخص بری، بحری یا فضائی گذرگاہ کے راستے زیادہ سے زیادہ 3 ہزار امریکی ڈالر کےمساوی رقم لے جانے کا مجاز ہوگا۔

اسی طرح کوئی بھی مسافر سوڈان سے باہر جاتے ہوئے اپنے ساتھ 150 گرام سونا لے جاسکے گا۔ منی لانڈرنگ یا رقوم کی کسی دوسرے غیرقانونی ذریعے سے بیرون ملک منتقلی پر 10 سال تک قید کی سزا ہوگی۔

ہنگامی حالات کے دوران کسی شخص کو ایندھن بالخصوص گیسولین، پٹرول، گیس اور فرنس آئل کو ذخیرہ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔