.

'ایس ڈی ایف' کا الباغوز میں 'داعش' کے خلاف گھمسان کی لڑائی کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں امریکی حمایت یافتہ کرد ڈیموکریٹک فورس'ایس ڈی ایف' نے کہا ہے کہ مشرقی شام میں شدت پسند گروپ'داعش' کے آخری گڑھ الباغوز میں گھمسان کی لڑائی کا امکان ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 'ایس ڈی ایف' کے ترجمان مصطفیٰ بالی نے خبر رساں اداروں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مشرقی شام میں الباغوز کےمقام پر قلعہ بند 'داعش' کے جنگجو ابھی تک محفوظ ہیں اور انہوں نے کرد ملیشیا کے متعدد جنگجو حراست میں لے لیے ہیں۔

قبل ازیں جمعرات کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ'ایس ڈی ایف' نے داعش کے قبضے سے شام کے تمام علاقے واپس لے لیے ہیں۔

تاہم کرد فورسز کے ترجمان مصطفیٰ بالی نے کہا کہ داعش کے جنگجو عراق کی سرحد پرالباغوز قصبے میں اپنے مورچوں میں ہیں اور انہوں نے ہتھیار نہیں‌ڈالے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں بالی نے کہا کہ کرد فورسز اس وقت تک الباغوز پرحملہ نہیں کرے گی جب تک وہاں سے عام شہری نکل نہیں جاتے۔ ان کا کہنا تھا کہ الباغوز میں ہم گھمسان کی لڑائی کی توقع رکھتے ہیں۔

ادھر سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے سربراہ مظلوم کوبانی نے کہا ہے کہ انہیں امید ہے کہ الباغوز میں 'داعش' کے خلاف لڑائی ایک ہفتے کے بعد ختم ہوجائے گی اور ہم دیر الزور کو 'داعش' کے جنگجوئوں سے مکمل طورپر آزاد کرا لیں گے۔

سیرین ڈیموکریٹک فورسز میں شام کے عرب اور کرد جنگجو شامل ہیں۔ انہیں امریکا اور بعض دوسرے ملکوں کی حمایت حاصل ہے۔ ایس ڈی ایف نے گذشتہ برس 10 ستمبر کو امریکا کی قیادت میں 'دیرالزور' میں 'داعش' کے خلاف آپریشن شروع کیا تھا۔ اس کے بعد داعشی جنگجو بہ تدریج پسپا ہوتے رہےہیں اور اب وہ الباغوز کے مقام پر جمع ہیں۔