الباغوز: داعش کے خلاف سیرین ڈیموکریٹک فورسز کا فیصلہ کن آپریشن مؤخر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اس وقت پوری دنیا کی نظریں شمال مشرقی شام میں واقع الباغوز میں داعش تنظیم یا اس کے بچے کھچے عناصر کے خلاف آخری "معرکے" کی الٹی گنتی پر لگی ہوئی ہیں۔

اس دوران العربیہ کے نمائندے نے ہفتے کے روز سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے حوالے سے بتایا ہے کہ الباغوز کی جنگ بندی کو اتوار کی صبح تک بڑھا دیا گیا ہے۔ مزید برآں یہ کہ الباغوز میں داعش کے درجنوں جنگجوؤں نے جمعے کی رات ہتھیار ڈال کر خود کو سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے حوالے کر دیا۔

گزشتہ چند روز کے دوران ایس ڈی ایف کی جانب سے حملوں کو بڑی حد تک روک دیا گیا تا کہ شہریوں اور تنظیم کے بعض عناصر کو نکلنے کے لیے موقع مل سکے۔ اس سے قبل جمعے کے روز ایس ڈی ایف نے داعش تنظیم کو ہفتے کی دوپہر تک کی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اس وقت تک تنظیم کے مزید جنجگو یا شہری باہر نہ آئے تو حتمی معرکے کا آغاز کر دیا جائے گا۔

ایس ڈی ایف کے میڈیا سینٹر کے ڈائریکٹر مصطفى بالی کا کہنا ہے کہ اتوار کی صبح یا دوپہر تک انتظار کیا جائے گا تا کہ ابھی تک جو شہری باقی ہیں وہ الباغوز سے باہر نکل سکیں ، اگر کوئی نہ نکلا تو سیرین ڈیموکریٹک فورسز حملے کا دوبارہ آغاز کر دے گی۔

یاد رہے کہ ایس ڈی ایف نے ایک ماہ قبل الباغوز کو واپس لینے کے لیے "حتمی معرکہ" کا آغاز کیا تھا۔

دوسری جانب شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد کا کہنا ہے کہ الباغوز میں داعش تنظیم کی خندقوں اور سرنگوں سے لوگوں کی بہت بڑی تعداد باہر نکلی۔ المرصد کے مطابق 16 فروری 2016 کے بعد سے تقریبا 19 ہزار افراد مذکورہ خندقوں اور سرنگوں سے باہر آئے جن میں 2 ہزار داعش تنظیم کے ارکان تھے۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ تنظیم کے جو لوگ باہر آئے وہ صرف باورچی خانے (مطبخ) کے اور انتظامی امور سے متعلق تھے۔

المرصد کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمن کا کہنا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ داعش تنظیم کے باہر آنے والے ارکان ترکی چلے جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں