غزہ پٹی سے متعلق نیتن یاہو کے بیان پر فلسطینی اتھارٹی چراغ پا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جانب سے دیے گئے غیرے ذمے دارانہ بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے یکسر طور پر مسترد کر دیا ہے۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی "وفا" کے مطابق فلسطینی صدارتی ترجمان نبیل ابو ردینہ کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کا بیان اسرائیلی حکمت عملی کا ظاہر کرتا ہے۔ اس کا مقصد انقسام کو دوام بخشنا اور "غزہ کی چھوٹی ریاست" کی تیاری ہے، اس طرح بیت المقدس اور اس کے مقدس مقامات سے دست برداری کو یقینی بنانا ہے۔

اس سے قبل نیتن یاہو نے اسرائیلی اخبار "يسرائيل ہیوم" سے خصوصی گفتگو میں کہا تھا کہ فلسطینی صدر محمود عباس کو غزہ پٹی واپس نہیں آنے دیا جائے گا۔ نیتن یاہو نے غزہ پٹی اور مغربی کنارے میں دو علاحدہ انتظامی وجود پر اپنی مسرت کا اظہار کیا۔

انہوں نے باور کرایا کہ یہودی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اسرائیلی وزیراعظم نے اس امر کی تصدیق کی کہ مصر، قطر اور اقوام متحدہ کے توسط سے غزہ پٹی کے محاصرے میں نرمی کے اقدامات، حماس تنظیم کی جانب سے حقِ واپسی کی ریلیوں میں کمی لانے کے مقابل تھے۔

نیتن یاہو نے مالی رقوم کی فراہمی کے لیے قطر کے ساتھ ایک معاہدے کی تصدیق بھی کی جس کا مقصد "غزہ پٹی کو مغربی کنارے سے علاحدہ رکھنا ہے"۔ اسرائیلی وزیراعظم کے مطابق "اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ایک ایسی فلسطینی ریاست وجود میں آئے گی جو دونوں جانب سے ہمارا احاطہ کر لے گی، تو ایسا ہرگز نہیں ہوگا"۔

ادھر اسرائیلی وزیراعظم نے سیاسی تصفیے کے اُس منصوبے کو قبول کرنے کے لیے تین شرائط رکھی ہیں جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان شرائط میں تمام یہودی بستیوں کو باقی رکھنا، مغربی کنارے پر مکمل اسرائیلی کنٹرول اور اور بیت المقدش شہر کی عدم تقسیم شامل ہے۔

اس کے مقابل حماس تنظیم کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے باور کرایا ہے کہ ان کی تنظیم کو حالات پرسکون رکھنے اور غزہ پٹی کا محاصرہ ختم کرنے کے حوالے سے اسرائیل کی جانب سے مثبت جواب موصول ہوا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں