.

سوڈان کی عبوری فوجی کونسل کا سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کا اعلان

فوج سوڈان میں اقتدار کی حریص نہیں: عبوری فوجی کونسل کی سیاسی کمیٹی کے سربراہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کےصدر عمر البشیر کا تختہ الٹنے کے بعد تشکیل پانے والی عبوری فوجی کونسل کی سیاسی کمیٹی کے سربراہ عمر زین العابدین کا کہنا ہے کہ ’’ ملکی بحران کا حل فوج نہیں ، بلکہ عوام تجویز کریں گے۔‘‘

جمعہ کے روز ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’’ہم عوامی مطالبات کے محافظ ہیں اور یہ مینڈیٹ تمام سیاسی جماعتوں نے اتفاق رائے سے ہمارے سپرد کیا ہے۔" ان مزید کہنا تھا کہ ’’ہم [فوج] اقتدار کی حریص نہیں ہیں۔‘‘

زین العابدین کے بقول ’’عبوری فوجی کونسل کے پاس سوڈان کو درپیش بحرانی کیفیت کا حل نہیں ہے بلکہ موجودہ صورتحال سے نکلنے کی راہ مظاہرین ہی سجھائیں گے۔‘‘

سوڈان کی عبوری فوجی کونسل کی سیاسی کمیٹی کے سربراہ نے مزید کہا کہ’’ بحران کے خاتمے کے لئے فوجی کونسل مسلح جھتوں سے مذاکرات کا خیرمقدم کرتی ہے۔ ہم لوگوں پر اپنی طرف سے کچھ مسلط نہیں کریں گے۔ کونسل کی کوشش ہے کہ مذاکرات کے لئے ساز گار فضا تیار کی جائے۔‘‘

زین العابدین نے بتایا کہ فوجی کونسل کو توقع ہے عبوری سیاسی انتقال اقتدار زیادہ سے زیادہ دو برسوں میں مکمل ہو جائے گا، تاہم اگر یہ سارا کام بغیر افراتفری کے ہو سکا، تو اس کے لئے ایک ماہ کی مدت بھی کافی ہو گی۔‘‘ انھوں نے کہا کہ معزول صدر عمرا لبشیر کی سابق حکمران جماعت نیشنل کانگریس پارٹی کو سوڈان میں آئندہ ہونے والے انتخاب میں شرکت کی اجازت ہو گی۔

عبوری فوجی کونسل کی سیاسی کمیٹی کے سربراہ نے معزول صدر عمرالبشیر کی کسی دوسرے ملک حوالگی کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان پر سوڈان ہی میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔

عبوری فوجی کونسل کے سربراہ اور وزیر دفاع محمد احمد عوض بن عوف نے جمعرات کے روز عمر البشیر کی حکومت کو چلتا کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ" دو برس تک ملکی امور فوج کی نگرانی میں عبوری سیاسی سیٹ اپ چلائے گا، جس کے بعد قومی انتخابات منعقد کرائے جائیں گے۔‘‘