مصری پادری کے قتل کی وجہ سامنے آ گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصر میں سیکورٹی اداروں نے قاہرہ کے شمال میں شبرا الخیمہ کے علاقے میں ایک چرچ کے اندر فائرنگ سے ایک پادری کے قتل کی تفصیلات اور وجوہات کا انکشاف کیا ہے۔

القلیوبیہ کے سیکورٹی ڈائرکٹریٹ نے بتایا ہے کہ پیر کے روز سیکورٹی حکام کو اطلاع ملی تھی کہ سینٹ مارک چرچ کے اندر فائرنگ ہوئی ہے اور ایک شخص کی موت واقع ہو گئی ہے۔ بعد ازاں معائنے اور جانچ سے یہ بات سامنے آئی کہ چرچ کے ایک 54 سالہ خادم کمال نے اپنے پاس موجود آتشین ہتھیار سے چرچ کے نگراں 65 سالہ پادری مقار سعد کو کئی گولیاں ماریں۔ ایک گولی پادری کے سر میں لگی جس کے نتیجے میں وہ فوری طور پر دم توڑ گیا۔

ڈائرکٹریٹ نے انکشاف کیا کہ یہ واقعہ فریقین کے درمیان اختلافات کے سبب پیش آیا۔ تفصیلات کے مطابق مقتول پادری نے چرچ کے قاتل خادم سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس کی بیٹیوں کی شادی پر مدد کرے گا اور خادم کو مالی رقوم بھی دے گا۔ تاہم پادری نے اپنے وعدے کو پورا نہیں کیا۔ دو روز کے دوران پادری نے قاتل خادم کو صرف ایک ہزار مصری پاؤنڈ پکڑا دیے۔ ملزم نے مزید رقم کا مطالبہ کیا مگر پادری نے انکار کر دیا۔ اس پر دونوں افراد کے بیچ تلخ کلامی ہوئی جس کے بعد قاتل نے پادری پر چار گولیاں چلا دیں۔

بعد ازاں قاتل نے خود کو قانون کے حوالے کر دیا۔ اس نے جرم کا اعتراف کر لیا کیوں کہ پادری نے مالی مدد کے حوالے سے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا تھا۔ مقتول پادری نے سینٹ مارک چرچ میں 25 برس تک اپنی خدمات انجام دیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں