.

شامی فوج کے شمال مغربی صوبہ ادلب میں فضائی اور زمینی حملے ، 12 شہری ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمالی مغربی صوبے ادلب میں اسدی فوج کے زمینی اور فضائی حملوں کے نتیجے میں بارہ شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کی اطلاع کے مطابق ادلب میں واقع شہر معرۃ النعمان میں شامی فوج نے ایک مارکیٹ کو اپنے فضائی حملے میں نشانہ بنایا ہے ۔اس میں ایک لڑکی سمیت چار افراد مارے گئے ہیں اور متعدد عمارتیں زمین بوس ہوگئی ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق معرۃ النعمان میں بازار پر فضائی حملے کے وقت لوگ خرید وفروخت میں مصروف تھے ۔ایک عینی شاہد کا کہنا تھا کہ لڑاکا طیاروں نے اپنے بچوں کے لیے خوراک کی خریداری میں مصروف شہریوں کو حملے میں نشانہ بنایا ہے۔

شامی فوج کی ادلب کے دوسرے علاقوں پر گولہ باری اور فائرنگ سے آٹھ شہری مارے گئے ہیں۔ادلب پر ماضی میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو تنظیم ہیئت تحریرالشام اور دوسرے باغی گروپوں کا کنٹرول ہے۔گذشتہ سال ستمبر میں جنگ بندی کے طے شدہ ایک سمجھوتے کے تحت شامی حکومت اور اس کے اتحادیوں نے اس صوبے پر اپنا ایک بڑا حملہ روک دیا تھا لیکن اپریل کے بعد سے شامی فوج اور اس کے اتحادی روس کے لڑاکا طیاروں نے دوبارہ فضائی حملے تیز کردیے ہیں۔

شامی رصدگاہ اور سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کی ایک اور اطلاع کے مطابق اسدی فورسز نے اتوار کو صوبہ حماہ کے شمال میں واقع ایک قصبے کفر نبودہ پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔شامی فوج نے قبل ازیں 8 مئی کو اس قصبے سے ہیئت التحریر الشام اور اس کے اتحادی مسلح گروپوں کو نکال باہر کیا تھا لیکن انھوں نے پھر اسدی فوج کو پسپا کرکے دوبارہ قصبے کے بعض حصوں پر قبضہ کر لیا تھا۔

اقوام متحدہ نے حال ہی میں خبردار کیا ہے کہ اگر شامی فوج ادلب پر حکومت کی عمل داری کے قیام کے لیے بڑی کارروائی کرتی ہے تو اس سے ایک بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ ادلب میں مقامی آبادی کے علاوہ دوسرے علاقوں سے بے دخل کیے گئے لاکھوں افراد بھی مقیم ہیں اور اس صوبے کے مکینوں کی تعداد تیس لاکھ سے متجاوز ہوچکی ہے۔

رصدگاہ کا کہنا ہے کہ ادلب میں اپریل کے آخر میں تشدد کے واقعات میں اضافے کے بعد 230 سے زیادہ شہری مارے جاچکے ہیں۔اقوام متحدہ کے فراہم کردہ اعداد وشمار کے مطابق تشدد کے ان حالیہ واقعات کے بعد سے دو لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔شامی فوج اور روس کے لڑاکا طیاروں نے اس دوران میں بیس مراکز ِصحت کو بھی اپنے فضائی حملوں میں نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں انیس مراکز بالکل ناکارہ ہوچکے ہیں اور صرف ایک مرکزِ صحت میں زخمیوں اور مریضوں کو علاج معالجے کی سہولت مہیا کی جارہی ہے۔