.

سابق سوڈانی صدر عمر البشیر نے بن لادن کو حوالے کرنے کے لیے کیا شرط رکھی ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ شہزادہ ترکی الفیصل نے القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی حوالگی سے متعلق سابق سوڈانی صدر عمر البشیر کی پیش کش کا انکشاف کیا ہے۔ یہ شرط اُس وقت کے سعودی ولی عہد شہزادہ عبداللہ بن عبدالعزیز کو پیش کی گئی تھی۔

ترکی الفیصل کا یہ انکشاف العربیہ نیوز چینل کے ایک پروگرام "الذاكرة السياسية" کے دوران سامنے آیا۔ الفیصل کے مطابق امریکی افواج کی جانب سے بن لادن کی میت کو سمندر برد کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اگر القاعدہ کے بانی کو زمین کے کسی حصے میں دفن کیا جاتا تو وہ مقام مرجع خلائق بن جاتا۔

سعودی انٹیلی جنس کے سابق سربراہ نے بتایا کہ صدر عمر البشیر 1996 کے اوائل میں حج اور عمرے کے واسطے مملکت آئے تھے۔ انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ عبداللہ بن عبدالعزیز سے ملاقات میں کہا کہ "ہم آپ سے تعاون کرنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم بن لادن کو آپ کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہیں"۔

سعودی ولی عہد نے اس پیش کش کو بھرپور انداز سے سراہا۔

شہزادہ ترکی الفیصل نے مزید بتایا کہ "عمر البشیر اُن کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ بن لادن کی حوالگی صرف ایک شرط پر ہو گی کہ آپ لوگ اس کے خلاف عدالتی کارروائی نہیں کریں گے"۔ اس پر شہزادہ عبداللہ نے براہ راست سوڈانی صدرکو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "ہمارے یہاں کوئی قانون سے بالاتر نہیں۔ سب پر شرعی قوانین کا اطلاق ہوتا ہے یہاں تک کہ جس طرح عام شہری پر اُسی طرح بادشاہ پر بھی ہوتا ہے۔ وہ آئے گا تو اس پر شریعت کے مطابق منصفانہ فیصلہ لاگو ہو گا"۔