.

امریکا کے زیر اہتمام’ بحرین کانفرنس‘ میں کیا ہونے والا ہے؟

"العربیہ نیوز چینل نے مجوزہ کانفرنس کے تفصیلی پروگرام کا مسودہ حاصل کر لیا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے مقبوضہ فلسطینی علاقوں دریائے اردن کے مغربی کنارے اور محاصرہ زدہ غزہ کو ’’ترقی کی نئی منزلوں سے روشناس کرانے‘‘ کی غرض سے دو روزہ ورکشاپ 25-26 جون کو خلیجی ریاست بحرین میں منعقد ہو رہی ہے۔

’’العربیہ‘‘ نیوز چینل نے مجوزہ ورکشاپ کے تفصیلی پروگرام کا مسودہ حاصل کر لیا ہے جس کے مطابق ’’امن سے خوش حالی کی جانب‘‘ کے موضوع پر منعقد ہونے والی ورکشاپ سے ’’غرب اردن، غزہ اور خطے میں سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔‘‘ بحرین کے دارالحکومت منامہ میں منعقد ہونے والی کانفرنس میں خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کی رکن ریاستوں، ایشائی ممالک اور امریکا سے وفود کی بڑی تعداد شریک ہوگی۔

ورکشاپ کے پہلے سیشن کا آغاز ’’خوشحال مشرق وسطیٰ کا تصور‘‘کے عنوان سے ایک ویڈیو کی نمائش سے ہو گا جس کے بعد شریک ملکوں کے نمائندوں پر مشتمل مجلس مذاکرہ ہو گی۔ اس مذاکرے کے شرکاء یہ حقیقت باور کرانے کی کوشش کریں گے کہ نجی شعبہ بشمول مقامی، علاقائی اورکثیر الملکی عناصر ’’خوش حالی کے نئے دور کی بحالی‘‘ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

معروف برطانوی پروفیسر، مصنف اور براڈ کاسٹر نِک گوئنگ کی میزبانی میں ہونے والے مباحثے میں متحدہ عرب امارات کی سرکردہ تعمیراتی فرم ’’عمار پراپرٹیز‘‘ کے صدر نشین محمد بن علی العبار‎ اور امریکا کی کثیر الملکی پرائیویٹ ایکویٹی بلیک اسٹون کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر اسٹیفن شوزمن خطاب کریں گے۔

کانفرنس کے دوسرے دن ’’اقتصادی امکانات کا ظہور‘‘ کے موضوع پر ہونے والے مباحثے میں اس امر پر تبادلہ خیال کیا جائے گا کہ پورا خطہ’’ پائیدار ترقی اور اقتصادی سرگرمی کی بحالی ‘‘ کا مرحلہ کیونکر طے کر سکتا ہے؟

اس مباحثے کی میزبانی معیشت سے متعلق امور کی غیر جانبدار تحقیق کے لئے معروف ’’ملکن انسٹی ٹیوٹ‘‘ نامی امریکی تھنک ٹینک کے ڈائریکٹر رچرڈ سینڈلر کریں گے جبکہ سعودی پبلک سرمایہ کاری فنڈ کے ڈائریکٹر ياسر بن عثمان الرميان، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹین لاگاردے، روس کے ڈائریکٹ انوسٹمنٹ فنڈ کے سی ای اوکیرل ڈیمتریف اور افریقا کی پراپرٹی انوسٹمنٹ کمپنی’’ ہیئرز ہولڈنگ ‘‘کے سی ای اوٹونی الو میلو بطور مہمان مقرر شرکت کریں گے۔

دوسرے ہی روز ’’عوامی بااختیاری‘‘ کے موضوع پر منعقد ہونے والے پینل مباحثے میں ’’خوشحال اور صحت مند فلسطینی آبادی کے انسانی وسائل کے بھرپور استعمال‘‘ کے طریقوں پر غور کے لئے تفصیلی تبادلہ خیال ہو گا۔

مذاکرے کی میزبانی انگریزی روزنامہ ’عرب نیوز‘ کے ایڈیٹر انچیف فیصل جے عباس کریں گے۔ مباحثے میں امریکا، سینیگال اور کولمبیا سے مہمان مقررین شرکت کریں گے۔

کانفرنس کے دوسرے اور آخری روز تین مزید مذاکرے بھی منعقد ہوں گے۔ ان مذاکروں کے موضوع ’’ترقی کے تزویراتی شعبہ جات‘‘، ’’کاروباری اور جدت کی ثقافت کی ترویج‘‘ اور ’’حفظان صحت کے پیش آئند منصوبے‘‘ ہوں گے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے ’’کہ مجوزہ بحرین کانفرنس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ کے پیش آئند امن منصوبہ کا حصہ ہے۔‘‘ توقع کی جا رہی ہے کہ کانفرنس میں کئی دہائیوں سے جاری اسرائیل – فلسطین تنازع سے جڑے پیچیدہ سیاسی مسائل کے حل کے لیے تجاویز بھی سامنے آئیں گی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ مجوزہ منصوبے کو "صدی کی ڈیل" کا نام دے کر اس کی حمایت حاصل کے لیے کوشاں ہیں، تاہم فلسطینی حکام نے اس یقین کا اظہار کرتے ہوئے امریکی اقدام مسترد کر رہے ہیں کہ اس میں ’اسرائیل نوازی کی بو آتی ہے۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کوشنر اور خطے کے لئے امریکی صدر کے خصوصی ایلچی جیسن گرین بلاٹ مشرق وسطیٰ میں جس مجوزہ امریکی امن منصوبے کی ترویج کے لیے کوشاں ہیں اس کا مقصد ابتدائی طور پر اقتصادی فوائد حاصل کرنا ہے۔ تاہم امریکی حمایت یافتہ قیام امن کی کوششوں کی ناکامی کے تناظر میں ماہرین مجوزہ منصوبے کی کامیابی سے متعلق شکوک کا اظہار کر رہے ہیں۔