.

ایرانی رجیم کے وفادار بلوائیوں نے خامنہ کا استعفیٰ مانگنے والوں کی زندگی اجیرن کردی

حکومت نواز شرپسندوں کے شہریوں‌کے گھروں پر دھاوے اور توڑپھوڑ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں حکومت کے وفادار غنڈہ گردوں کی طرف سے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ سے استعفے کا مطالبہ کرنے والے سماجی کارکنوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے۔ایرانی رجیم کے پروردہ یہ ایجنٹ آئے روز ان کارکنوں کے گھروں‌پر دھاوے بول کر گھروں میں‌موجود خواتین اور بچوں کو ہراساں کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ 10 اور 20 جون کے دوران میں ایران میں سول سوسائٹی اور سیاسی جماعتوں کے 14 کارکنوں نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو لکھے دو الگ الگ مکتوبات میں استعفیٰ دینے اور دستور میں ترمیم کا مطالبہ کیا تھا۔ یہ دونوں‌ مکتوب ایرانی رجیم کی طاقت ور شخصیت کو ذاتی طورپر ارسال کیے گئے تھے۔

جیسے ہی ان مکتوبات کی خبر پھیلی تو ان کارکنوں کے گھروں پر بلوائیوں کے حملے شروع ہوگئے۔ حملے کرنے والے شرپسندوں میں ایرانی رجیم کے پروردہ ایجنٹ شامل ہیں جو خامنہ ای کے استعفے اور ملکی دستور میں تبدیلی کا مطالبہ کرنے والوں کو سبق سکھانے کی کوشش کررہےہیں۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ کے مطابق خامنہ ای کو مکتوب ارسال کرنے والے کارکنوں میں ایرانی رجیم سے منحرف ہونے والے سماجی کارکن محمود نوری زاد بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 14 کارکنوں نے اپنے دستخطوں سے ایرانی سپریم لیڈر کو مکتوب ارسال کیے۔ ان کا کہنا ہےکہ ہم جانتے ہیں خامنہ ای سے استعفے کا مطالبہ خطرات سے پرہے مگرہم اپنی ذمہ داری ادار کرتے ہوئے ایرانی لیڈر کو حالات سے آگاہ کررہے ہیں تاکہ وہ کوئی بروقت فیصلہ کرسکیں۔

انہوں‌نے کہا کہ جب سے خامنہ ای کو مکتوب ارسال کیے تب سے سیکیورٹی اہلکاروں کی وردیوں میں ملبوس فراد، سول کپڑوں میں ملبوس اور حکومت نواز عناصر نے کارکنوں کے گھروں پردھاوے بولنا شروع کررکھے ہیں۔ تازہ واقعات میں محمدی اور محمد سبھری کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔ حملہ آوروں نے وہی طریقہ واردات اختیار کیا ہے جو سنہ 2009ء میں جنرل ہمدانی نے اختیار کیا تھا۔

خیال رہے کہ ایرانی جنرل حسین ھمدانی 8 اکتوبر 2015ء کو شام کے شہر حلب میں ہلاک ہوگئے تھے۔ سنہ 2009ء میں ایران میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران مسٹر ہمدانی نےمظاہرین کو کچلنے کے لیے طاقت کا وحشیانہ استعمال کرنے کے ساتھ مختلف تخریب کار گروپوں کی بھی قیادت کی تھی جو حکومت مخالف سیاسی کارکنوں کےگھروں پر دھاوے بولتے اور ان کے اہل خانہ کو ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ گھروں میں گھس کر توڑپھوڑ اور لوٹ مار مچاتے تھے۔

نوری زاد کا کہنا ہے کہ ان کے دوست سبھری کے گھر پرحکومت نواز بلوائیوں نے رات کے تین بجے یلغار کی اور سبھری کو اپنی جان بچانے کے لیے کار میں چھپنا پڑا۔

بعد ازاں سبھری نے اس واقعے کی ایک فوٹیج جاری کی تاہم اس کی آواز ختم کردی گئی کیونکہ اس میں حکومتی تخریب کاروں کی طرف سے انہیں ننگی گالیاں دی گئی تھیں۔