.

یورپی کمپنیاں امریکا اور ایران میں سے کسی ایک کا چناؤ کر لیں: برائن ہُک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی برائن ہُک نے یورپی کمپنیوں‌ پر زور دیا ہے کہ ’’وہ دوغلی پالیسی ترک کرکے امریکا اور ایران میں سے کسی ایک کا انتخاب کریں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’یورپی کمپنیوں کو کھل کر فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ ایران یا ہمارے ساتھ کام کریں گی۔؟‘‘

برائن ہک نے جُمعہ کے روز ایک بیان میں کہا کہ ان کا ملک ایرانی تیل کی خریداری کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے ساتھ ایرانی تیل کے خریداروں پر بھی بلا روک ٹوک پابندیاں عاید کرے گا۔ واشنگٹن، ایران کو تیل کی مد میں ملنے والے 50 ارب ڈالر وں سے محروم رکھے گا۔

برائن ہُک نے کہا کہ اگرایران کو یمن میں اپنے پنجے گاڑنے سے نہ روکا گیا تو وہ آبنائے ہرمز بند کردے گا۔ انہوں نے ایران پر کشیدگی کے خاتمے اور تنازع کے سفارتی حل کی کوکوششوں کو سبوتاژ کرنے کا الزام عاید کیا۔ امریکی عہدیدارکا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ نے بار بار کہا ہے کہ وہ ایرانی صدر کی طرف سے کسی بھی رابطے کا خیر مقدم کریں گے۔

قبل ازیں جمعرات کے روز برائن ہُک کا ایک بیان سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ایران پر سخت ترین پابندیاں عاید کرنے کی پالیسی برقرار رہے گی۔ پابندیوں کی پالیسی ایران کے خلاف مؤثر اور کارگر ثابت ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں ایرانی رجیم تاریخی رقوم کے حصول میں‌ ناکام رہا ہے۔

اُدھر ایران نے جمعہ کے روز ایک بیان میں یورپی ممالک سے کہا ہےکہ ویانا اجلاس تہران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے کو بچانے کا آخری موقع ہے۔ ایران کا کہنا تھا کہ وہ امریکی پابندیوں کے خلاف یورپ کی طرف سے کوئی نمائشی اقدام قبول نہیں کرے گا۔

خیال رہے کہ گذشتہ برس امریکا نے ایران کے ساتھ سنہ 2015ء میں‌ طے پائے گئے معاہدے سے علاحدگی کا اعلان کرنے کے بعد تہران پر مرحلہ وار اقتصادی پابندیاں دوبارہ شروع کردی تھیں۔