ترک سفارت کاروں کے قاتل کرد شدت پسند کے پولیس کی زیرحراست اعترافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

عراق کے صوبہ کردستان کی پولیس کی طرف سے 17 جولائی 2019ءکو اربیل میں قائم 'ہوقباز' ہوٹل میں تین ترک سفارت کاروں کے قتل میں ملوث کرد شدت پسند کے اعترافات جاری کیے گئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کردستان کی سیکیورٹی کونسل کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 17 جولائی کو اربیل میں ترکی کے قونصل جنرل اور ان کےدو دیگر ساتھی سفارت کاروں کے قتل میں ملوث ملزم نے اہم اعترافات کیے ہیں۔ ملزم کی فائرنگ سے اربیل میں قونصل جنرل عثمان کوسہ، ناریمان عثمان محمد علی اور بشدار رمضان صالح ہلاک ہوگئے تھے۔

کردستان کی انسداد دہشت گردی پولیس کے مطابق سفارت کاروں کے قتل کے الزام میں چھ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ ان میں تین ترک ملزم شامل ہیں جن میں فائرنگ کرنےوالا شخص مظلوم داغ بھی شامل ہے۔ اس کے تین دیگر معاونین بھی حراست میں لیے گئے ہیں۔ بعض مشتبہ افراد کی تلاش جاری ہے۔

دوران حراست دو ملزمان نے اس دہشت گردانہ واقعے میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ترک سفارت کاروں پرحملے کا منصوبہ کئی ماہ قبل بنایا گیا تھا۔ اس منصوبے میں کردستان ورکرزپارٹی کا ہاتھ ہے۔ ورکرز پارٹی کے ایک اہم رکن فاتح کو ترک سفارت کاروں پر حملے کا ہدف سونپا گیا تھا۔ ملزمان کا کہنا ہےکہ انہوں‌ نے دو مقامی افراد کو ترک سفارت کاروں کے شبے میں گولیاں ماریں۔ وہ ان کے نشانے پرنہیں تھے۔

انسداد دہشت گردی پولیس نے حملہ آوروں کے اعترافات پرمبنی فوٹیج بھی دکھائی اور حملے کے وقت کے بعض مناظر بھی دکھائے ہیں۔

کردستان کی پولیس نے سفارت کاروں پر حملے کے تین روز بعد 20 جولائی کو واقعے کےمرکزی ملزم مظلوم داغ اور متعدد دیگر افراد کو حراست میں لینے کا دعویٰ‌کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں