عراق ہتھیاروں کا ڈپو نہیں: عمار الحکیم
عراق میں الحکمہ گروپ کے سربراہ عمار الحکیم کا کہنا ہے کہ عراق ہتھیاروں کا کوئی ڈپو نہیں ہے۔ انہوں نے عراقی ریاست کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہوئے زور دیا کہ ایسی کسی خلاف ورزی کی اجازت نہ دی جائے جس کا مقصد ریاست کو نقصان پہنچانا ہو۔
الحکیم نے جمعے کے روز قومی اپوزیشن محاذ کی تشکیل کا اعلان بھی کیا۔ مذکورہ محاذ ملک میں حزب اختلاف کی پہلی کابینہ (Shadow Cabinet) کا اعلان کرے گا۔ الحکیم کے مطابق یہ محاذ عراقی عوام کے مفادات کے مطابق صحیح راستے کا تعین کرے گا۔
ادھر عراقی صدر برہم صالح یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کا ملک دوسروں کے تنازعات کے خاتمے کا میدان نہیں بنے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ریاست کے تین ستون اور بنیادی قوتیں یہ باور کراتی ہیں کہ ریاست کا مرجع قانون کی بنیاد اور بالا دستی ہے۔
برہم صالح نے یہ بات بغداد میں انسداد دہشت گردی فورسز کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کرتے ہوئے کہی۔ البتہ ایران نواز ملیشیائیں ریاست کے فیصلوں پر بغاوت کے لیے مصر ہیں۔
گذشتہ چند روز کے دوران عراق میں وسیع تنازعے کی صورت حال دیکھنے میں آئی ہے۔ یہ پیش رفت الحشد الشعبی ملیشیا کے کئی ٹھکانوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد سامنے آئی۔ متعدد رپورٹوں اور خود اسرائیلی وزیراعظم کے عندیے کے مطابق ان کارروائیوں کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہے۔ اس کی وجہ ایران نواز ملیشیاؤں کی تہران کے لیے وفاداری ہے خواہ یہ ملیشیائیں عراق، شام یا پھر لبنان میں ہوں۔
-
عراق میں بدعنوانی کا خاتمہ اتنا دشوار کیوں ؟
عراق میں سرکاری ذمے داران کی جانب سے بدعنوانی کے انسداد اور بدعنوانوں کے خاتمے کے ...
مشرق وسطی -
عراق میں ایرانی ملیشیائوں کی سرگرمیوں پرامریکا کو تشویش
امریکی وزارت خارجہ نے ذرائع ابلاغ میں آنے والی ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن ...
مشرق وسطی -
عراق : شام کی سرحد کے نزدیک اسرائیل کے مبیّنہ تباہ کن ڈرون حملے کی تحقیقات
عراقی فوج نے شام کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے میں اسرائیل کے مبیّنہ ڈرون حملے کی ...
مشرق وسطی