ترک ٹیچر کی بغیراجازت 3 سیکنڈ کی جھلک دکھانے پر نیٹ فلیکس کو 90 ہزار ڈالر جرمانہ
اشتہار میں استعمال ویڈیو کلپ میں مصطفیٰ غولر کلاس کے اندر جوش و خروش سے ریاضی سمجھا رہے
ایک ترک عدالت نے نیٹ فلکس پلیٹ فارم کو ریاضی کے ایک استاد کو چار ملین ترک لیرے سے زیادہ کا مالی معاوضہ ادا کرنے کا حکم دے دیا۔ یہ رقم تقریبا 90 ہزار امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ یہ فیصلہ ان کی اجازت کے بغیر ایک اشتہاری مہم میں ان کی محض تین سیکنڈ کی مختصر ویڈیو کلپ استعمال کرنے پر کیا گیا ہے۔
ترک میڈیا کے مطابق عدالت نے معروف پلیٹ فارم کو ترک استاد مصطفیٰ غولر کے حقوق کی خلاف ورزی کا مجرم قرار دیا ہے کیونکہ ان کی پیشگی معلومات یا رضامندی کے بغیر ایک تشہیری اشتہار میں ان کی وہ جھلک استعمال کی گئی تھی جس میں وہ کلاس کے اندر جوش و خروش کی حالت میں ریاضی کا سبق سمجھاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔
کیس کی تفصیلات اس وقت سامنے آئیں جب استاد کو بعد میں اپنے ایک طالب علم کے ذریعے اشتہار میں اپنی تصویر کے استعمال کا پتہ چلا۔ اس نے انہیں عدالت سے رجوع کرنے اور کمپنی کے خلاف مقدمہ دائر کرنے پر مجبور کیا اور یہ مقدمہ تقریباً تین سال تک چلتا رہا۔ عدالتی سماعتوں کے دوران نیٹ فلکس نے اپنا دفاع کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اس کلپ کا استعمال مزاحیہ سیاق و سباق میں کیا گیا تھا لیکن عدالت نے اس عذر کو مسترد کر دیا اور اس بات پر زور دیا کہ مواد کو ایک بامعاوضہ تجارتی اشتہار میں شامل کرنا تجارتی مقاصد کے لیے غیر مجاز استعمال کے زمرے میں آتا ہے۔
Matematik öğretmeni Mustafa Güler'in, dijital yayın platformu Netflix'e karşı açtığı tazminat davası sonuçlandı.
— Sayfa 16 (@sayfa_16) June 12, 2026
Mahkeme, Güler'in görüntülerinin izinsiz kullanıldığı gerekçesiyle Netflix'in toplam 1 milyon 950 bin lira tazminat ödemesine hükmetti. pic.twitter.com/CGsCpwt7Lr
عدالت نے استاد کو تقریباً 2 ملین ترک لیرے کا بنیادی معاوضہ دینے کا فیصلہ سنایا جس میں قانونی چارہ جوئی کے طویل عرصے کی وجہ سے بننے والے سود کو بھی شامل کیا گیا جس سے کل رقم 4 ملین ترک لیرے سے زیادہ ہو گئی۔ فیصلہ آنے کے بعد استاد مصطفیٰ غولر نے اس فیصلے پر اپنی خوشی کا اظہار کیا اور میڈیا کے ساتھ کئی انٹرویوز میں نظر آئے جہاں انہوں نے اشتہار میں استعمال ہونے والی جھلک کو دوبارہ دہرا کر دکھایا۔
بعد میں یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر ہونے والا مواد بن گئی اور اس کیس کے ساتھ وسیع پیمانے پر عوامی ردعمل دیکھا گیا جس نے تجارتی اشتہارات میں مالکان کی اجازت کے بغیر ڈیجیٹل مواد کے استعمال پر بحث کو دوبارہ چھیڑ دیا ہے۔
اس کیس نے عالمی کمپنیوں کی جانب سے اپنی اشتہاری مہمات میں انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی مختصر ویڈیوز پر بڑھتے ہوئے انحصار کے معاملے کو دوبارہ نمایاں کر دیا ہے۔ خاص طور پر ان ویڈیوز پر جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ان کے استعمال کے حقوق یا ان کے مالکان کی رضامندی کی تصدیق کیے بغیر شیئر کی جاتی ہیں۔
ترکیہ میں تصویر کے حقوق اور ڈیجیٹل مواد کے کیسز اب زیادہ عام ہو گئے ہیں کیونکہ افراد کو ان کی تصاویر یا ویڈیوز کی اجازت کے بغیر اشتہارات میں استعمال کیے جانے سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے قوانین سخت کر دیے گئے ہیں۔