.

امریکا : امیرِ قطر کے بھائی کے خلاف مقدمے میں نئی دستاویزات کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں امیر قطر شیخ تمیم کے سوتیلے بھائی شیخ خالد بن حمد آل ثانی کے خلاف مقدمے میں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اس حوالے سے خاتون ایڈوکیٹ ریبیکا کیسٹانیڈا نے نئی دستاویزات کا انکشاف کیا ہے۔ ان سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکی وفاقی عدالت نے سابق امیر حمد بن خلیفہ آل ثانی کے بیٹے خالد کو طلب کیا تھا۔ خالد پر الزام ہے کہ اس نے اپنی سیکورٹی میں شامل ایک اہل کار کو 2017 میں کیلیفورنیا میں دو افراد کو قتل کرنے پر اکسایا تھا۔ مذکورہ دستاویزات کے مطابق عدالت نے مزید شخصیات کو بھی طلب کیا جن میں واشنگٹن میں قطر کے سفیر مشعل بن حمد آل ثانی، قطری انٹیلی جنس کے سربراہ شيخ محمد المسند (امیر قطر تمیم کی والدہ کا چچا زاد بھائی)، عبداللہ بن حمد اور اسی طرح کینیڈا سے تعلق رکھنے والا تاجر ایلن بنڈیر شامل ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو موصول ہونے والی دستاویزات میں 17 ستمبر کا وہ خط بھی شامل ہے جس میں واشنگٹن میں قطری سفیر کو مخاطب کر کے ان کی اور دیگر افراد کی طلبی کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

واضح رہے کہ فلوریڈا میں امریکی وفاقی عدالت خالد بن حمد آل ثانی کے خلاف ایک مدعی کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے کی سماعت کر رہی ہے۔ خالد امریکا میں دو کمپنیوں کا مالک ہے اور اس وقت مفرور ہے۔ تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ خالد نے ذاتی طور پر اور اپنی کمپنیوں کے ذریعے امریکا میں کام سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کی۔ مزید یہ کہ ایک اور خطرناک جرم کا ارتکاب کرتے ہوئے اپنے سابق ذاتی محافظ کے ذریعے دو امریکی شہریوں (ایک مرد اور ایک خاتون) کو قتل کرانے کی کوشش کی۔ تاہم خالد کے محافظ نے اس قبیح جرم کے ارتکاب سے سختی سے انکار کر دیا۔

ایڈوکیٹ ریبیکا اس مقدمے میں میتھیو پیٹارڈ اور میتھیو ایلنڈے کی طرف سے وکیل کے طور پر شریک ہیں۔ پیٹارڈ نے ذاتی محافظ اور ایلینڈے نے طبی اہل کار کے طور پر شیخ خالد کے ساتھ کام کیا۔ ریبیکا نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ شیخ خالد اور اس کے نام پر کام کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے ریبیکا کے مؤکلین کو 3.3 کروڑ ڈالر کی رقم بطور زر تلافی اور معاوضہ ادا کیا جائے۔

مقدمے سے متعلق دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ شیخ خالد اس وقت چراغ پا ہو گیا جب اس کے ذاتی محافظ میتھیو پیٹارڈ نے دوحہ میں شیخ خالد کے محل میں یرغمال افراد کو فرار ہونے میں مدد دی۔ دوحہ میں امریکی سفارت خانے کی سیکورٹی فورس نے کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ افراد کو آزاد کرایا۔ بعد ازاں شیخ خالد آل ثانی نے پیٹارڈ کو ہتھیار دکھاتے ہوئے دھمکی دی کہ وہ پیٹارڈ کو موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے اور کوئی اس کا احتساب کرنے والا نہیں ہو گا۔

مقدمے کے دوسرے درخواست گزار میتھیو ایلنڈے کا دعوی ہے کہ اسے بھی شیخ خالد کے لیے خدمات کی انجام دہی کے دوران حبسِ بے جا میں رکھ کر ڈرایا اور دھمکایا گیا۔ جب ایلنڈے نے شیخ خالد کے محل سے باہر جانے کی کوشش کی تو پہرے دار نے اسے روکا۔ اس پر اُس نے دیوار پھاند کر بھاگ جانے کی کوشش کی اور زخمی ہو گیا۔ بعد ازاں ہسپتال میں زیر علاج رہا۔

اس مقدمے کا انوکھا پہلو یہ ہے کہ شیخ خالد آل ثانی اور ان کی کمپنیوں کے وکلاء کی جانب سے مقدمے کے متعلق سوالات کا کوئی جواب نہیں دیا جا رہا۔ ایڈوکیٹ ریبیکا نے ٹویٹر پر تصدیق کی ہے کہ مذکورہ وکلاء ابھی تک اس سے انکار کر رہے ہیں۔

ریبیکا کے مطابق انہوں نے امریکا میں قطر کے سفیر کو واشنگٹن میں قطری سفارت خانے اور لاس اینجلس اور نیویارک میں قونصل خانوں کے ذریعے پیغامات ارسال کیے۔ تاہم سفیر نے ان پیغامات کا کوئی جواب نہیں دیا بلکہ اپنے ملازمین کو ہدایات دیں کہ وہ جواب نہ دیں اور خاتون وکیل کے خلاف جارحانہ زبان استعمال کی۔

ایڈوکیٹ ریبیکا اس سے پہلے یہ باور کرا چکی ہیں کہ فلوریڈا میں بعض افراد ان کا پیچھا کرتے ہوئے پائے گئے۔ البتہ ریبیکا کا کہنا ہے کہ انہیں کوئی خوف نہیں ہے۔ انہوں نے جمعرات کے روز ٹویٹر پر بھی اس بات کو دہرایا۔

اپنی سابقہ ٹویٹس میں ریبیکا یہ کہہ چکی ہیں کہ وہ کسی غیر ملک کے مفاد میں نہ تو رشوت قبول کریں گی اور نہ بلیک میلنگ کا ارتکاب کریں گی۔

ایسا لگتا ہے کہ قطر کی حکومت یا اس کے ترجمان نے ایڈوکیٹ ریبیکا کیسٹانیڈا سے رابطے کی کوشش کی اور انہیں مقدمے سے دست بردار ہونے کے لیے رشوت کی پیش کش کی۔ ریبیکا کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس پیش کش کو یکسر مسترد کر دیا۔ اسی طرح وہ اس الزام کو بھی مسترد کرتی ہیں کہ انہوں نے کسی غیر ملکی حکومت کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔ ریبیکا کی مراد قطری حکومت ہے۔