بحران سے مؤثر طور نمٹ کر ارامکو نے حقیقی طاقت ظاہر کر دی : تجزیہ کار
سعودی عرب میں بقیق اور خریص ہجرہ میں تیل کی تنصیبات پر حالیہ حملوں کے حوالے سے مملکت کے اقدامات نے دنیا میں تیل کی سب سے بڑی کمپنی ارامکو پر عالمی منڈی کے اعتماد میں اضافہ کر دیا ہے۔ تزویراتی ماہرین کے مطابق اس طرح کی صورت حال کے نتیجے میں جنم لینے والے بحران پر قابو پانے کے حوالے سے ارامکو کی صلاحیتوں پر اطمینان مزید گہرا ہو گیا ہے۔
عربی روزنامے الشرق الاوسط کے مطابق واشنگٹن میں خلیجی ممالک کے امور کے ماہر تھیوڈور کیراسک کا کہنا ہے کہ ایرانی حملے کے بعد ارامکو کمپنی نے متعدد اہداف کو یقینی بنایا ہے۔ اس میں پہلا ہدف پٹرول سے متعلق ذمے داران کے رد عمل کا وقت ہے۔
کیراسک کے نزدیک ارامکو نے اس طرح کے بحران سے نمٹنے کے سلسلے میں تیزی سے جواب دینے کی صلاحیت کا اظہار کیا۔ اس کے علاوہ کمپنی نے متعلقہ معلومات کو سرمایہ کاروں اور مبصرین کے سامنے پرسکون اور اطمینان بخش انداز سے پیش کیا۔
کیراسک کے مطابق اس لحاظ سے ارامکو کمپنی میں کرائسسز مینجمنٹ انتہائی مؤثر رہی اور کمپنی کی طاقت ان حملوں کے بعد ظاہر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ "کمپنی اپنے تمام ایجنٹس کو مطلع رکھنے کے لیے بھی کوشاں رہی۔ یہ تمام تصرفات ایک اعلی درجے کی بین الاقوامی کمپنی کے ہیں"۔
دوسری جانب روس سے تعلق رکھنے والے ایک اسٹریٹجک تجزیہ کار آندرے اونٹیکوف نے ماسکو سے فون کال پر بتایا کہ "ارامکو کمپنی کی تنصیبات پر حالیہ حملوں کے سبب میں توانائی کی عالمی منڈی میں کشیدگی دیکھے جانے کو خارج از امکان نہیں کہتا مگر مجھے توقع ہے کہ یہ کشیدگی مختصر اور محدود اثرات کی حامل ہو گی"۔
روسی تجزیہ کار نے کئی سعودی عہدے داران کی جانب سے مثبت بیانات پر اپنے پُر امید ہونے کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات کو سراہا کہ ان عہدے داران نے باور کرایا کہ مملکت تمام تر ممکنہ کوششیں بروئے کار لائے گی تا کہ پیداوار کا عمل اپنی نارمل پوزیشن اور اس سطح پر واپس آ سکے جو حملے سے پہلے قائم تھی۔
اونٹیکوف کے مطابق سعودی عرب کے متعلقہ اداروں نے تیل کی پیداوار روکنے کا اعلان کیا تو ساتھ ہی یہ واضح کر دیا تھا کہ یہ عارضی اقدام ہو گا اور پھر پیداوار کے دوبارہ شروع کیے جانے کے حوالے سے مملکت کی بات سچ ثابت ہوئی۔
اونٹیکوف نے باور کرایا کہ سعودی عرب ایک ذمے دار ریاست ہے اور بین الاقوامی میدان میں تمام جہتوں پر بالخصوص تیل کی عالمی منڈی میں ایک بڑے اور اہم کھلاڑی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ سعودی عرب کو دنیا کے دیگر ممالک کی جانب سے مورال سپورٹ ملے گی۔ اس لیے کہ ہر کوئی تیل کی عالمی قیمتوں کو مستحکم رکھنے میں دل چسپی رکھتا ہے۔ اونٹیکوف نے غالب گمان ظاہر کیا کہ یہ بحران جلد ختم ہو جائے گا۔
اس سے قبل سعودی ارامکو کمپنی کے سربراہ امین الناصر نے دو روز قبل کمپنی کے ملازمین کے نام ایک خط میں کہا تھا کہ 14 ستمبر کو بقیق اور خریص میں تیل کے پلانٹس پر حملوں کے بعد ارامکو پہلے سے زیادہ طاقت ور ہو چکی ہے۔
مذکورہ حملے کے نتیجے میں پلانٹس کو شدید نقصان پہنچا تھا اور سعودی عرب کی جانب سے تیل کی پیداوار نصف رہ گئی تھی۔ اسی طرح مملکت نے اپنی برآمدات سے یومیہ 57 لاکھ بیرل کو روک دیا تھا۔
قومی دن کے موقع پر اپنے پیغام میں امین الناصر نے مزید کہا کہ ارامکو کمپنی میں تقریبا 70 ہزار مرد اور خواتین ملازمین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوری طور پر حرکت میں آنے ، آگ پر قابو پانے اور مرمت کے کام کے شروع ہونے کے نتیجے میں عالمی تیل کی منڈی اور بین الاقوامی معیشت پر ان حملوں کے اثرات کو محدود کر دیا گیا۔