.

عراق : بغداد میں کرفیو کے باوجود مظاہرین سڑکوں پر ، ملک میں ہلاکتوں کی تعداد 15 ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بغداد میں انسداد ہنگامہ آرائی فورس نے جمعرات کے روز درجنوں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ایک بار پھر ہوائی فائرنگ کی۔ یہ مظاہرین جمعرات کو علی الصبح کرفیو نافذ ہو جانے کے باوجود دارالحکومت کے وسط میں واقع تحریر اسکوائر پر ٹائروں کو آگ لگانے میں مصروف تھے۔

عراقی ذمے داران کے مطابق خون ریز احتجاجی مظاہروں کے تیسرے روز میں داخل ہونے کے بعد اب تک دارالحکومت بغداد اور ملک کے کئی جنوبی شہروں میں مجموعی طور پر ہلاک ہونے والوں کی تعداد 15 ہو چکی ہے۔ عراق میں انسانی حقوق کے کمیشن کے مطابق ہلاک شدگان میں ایک پولیس اہل کار بھی شامل ہے۔

احتجاج کنندگان دارالحکومت کے وسط میں تحریر اسکوائر تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں جو شہر میں مظاہروں کے آغاز کا روایتی مقام سمجھا جاتا ہے۔ الجمہوریہ پُل ،،، تحریر اسکوائر کو گرین زون سے علاحدہ کرتا ہے۔ سیکورٹی فورسز نے منگل کے روز سے یہاں کی سخت ناکا بندی کر رکھی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ الناصریہ شہر میں مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے بیچ جھڑپوں کے دوران 7 احتجاج کنندگان اور اور ایک پولیس اہل کار مارا گیا جب کہ العمارہ شہر میں 4 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

العربیہ اور الحدث چینلوں کے نمائندے نے جمعرات کے روز بغداد کے گرین زون کے اندر دھماکوں اور سائرن سنائی دینے کی خبر دی۔

گرین زون میں ترکی کے سفارت خانے کے نزدیک ایک راکٹ آ کر گرا جب کہ دوسرا راکٹ گرین زون کے اطراف واقع الحارثیہ پُل پر گرا۔

اس سے قبل عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے آج جمعرات کی صبح 5 بجے سے غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو لگا دیا۔

مظاہرین نہ صرف حکومت کی کارکردگی اور خدمات کی فراہمی میں اس کی ناکامی پر سخت برہم ہیں بلکہ انہوں نے طاقت ور جماعتوں اور اہم شخصیات کے خلاف بھی مظاہرہ کیا جنہوں نے احتجاج کنندگان کو 'اجرتی مظاہرین' قرار دیا۔