"النصرہ" پہاڑی علاقوں، الرقہ، حمص، دمشق اور لاذقیہ جا کر لڑے : ایردوآن کے مشیر کا مطالبہ
ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کے مشیر اور حکمراں جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے رکن یاسین اقطائی نے شام میں القاعدہ تنظیم کی شاخ "ہیئۃ تحرير الشام" (سابقہ نام النصرہ فرنٹ) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پہاڑی علاقوں میں جا کر سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کے خلاف لڑے اور اس کے علاوہ الرقہ، حمص، دمشق اور لاذقیہ میں بھی لڑائی میں شریک ہو۔
اقطائی نے یہ بات حال ہی میں ایک ٹی وی چینل "حلب اليوم" سے خصوصی گفتگو میں کہی۔
ترکی کے صدر کے مشیر کا یہ بیان ہیئۃ تحریر الشام کے سربراہ ابو محمد الجولانی (داعش کے سربراہ ابو ابکر البغدادی کا سابق نائب) کے موقف کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ الجولانی نے آستانا معاہدے اور سوچی سمجھوتے کی اُن شقوں کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا جن میں سمجھوتے کے تحت طے شدہ ہتھیاروں سے پاک علاقے سے دور رہنے پر زور دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ شدت پسند تنظیموں کو تحلیل کر کے انہیں اعتدال پسند مسلح گروپوں میں ضم کرنے کا کا تقاضا بھی کیا گیا تھا۔
یاسین اقطائی نے خصوصی بات چیت میں ہیئۃ تحریر الشام تنظیم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "اگر آپ نے لڑنے کا ارادہ کر رکھا ہے تو پھر پہاڑوں میں جائیے .. الرقہ جائیے .. جائیے اور حمص، دمشق اور لاذقیہ کو آزاد کرائیے ... ادلب تو آزاد ہے وہاں کوئی مشکل نہیں لہذا آپ ادلب کو اپنے لیے ڈھال کیسے بنائیں گے"۔
ترک صدر کے مشیر نے ادلب میں ہیئہ تحریر الشام کی موجودگی کو صوبے میں شامی اور روسی بم باری کا سبب قرار دیا۔
اس سے قبل ہیئۃ تحریر الشام کے سربراہ ابو محمد الجولانی نے فرات کے مشرق میں کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس (تنظیم) یا سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے خلاف ترکی کی فوج کے کسی بھی آپریشن کی تائید کی تھی۔
الجولانی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ "ہمارے نزدیک کردستان ورکرز پارٹی انقلاب کی دشمن ہے۔ اس نے ایسے علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے جہاں بڑی تعداد میں ہمارے قبائلی سنی عرب موجود ہیں۔ ان کے لوگ ہمارے شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کردستان ورکرز پارٹی کے خاتمے کی ضرورت ہے۔ لہذا ہم اس بات کے خواہاں ہیں کہ اس علاقے کو کردستان ورکرز پارٹی سے آزاد کرایا جائے"۔
دوسری جانب النصرہ فرنٹ کے شرعی امور کے مشیر عبداللہ المحیسنی نے جمعرات کی شام اپنے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر شام کے شمال مشرق میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز سے لڑنے کے واسطے ترکی کی فوج کے آپریشن کی تائید اور نصرت کا اعلان کیا۔ المحیسنی نے کردستان ورکرز پارٹی کو ایک ملحد تنظیم قرار دیا۔