.

صدام حکومت خاتمے کے بعد بغداد کا سب سے بڑا مظاہرہ، تین افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے جنوبی علاقوں میں بڑے بڑے حکومت مخالف اور پرتشدد مظاہروں کے بعد کل جمعہ کو دارالحکومت بغداد ہزاروں مظاہرین احتجاجی جلوس نکالا۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر اشک آور گیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں ایک خاتون سمیت کم سے کم تین افراد مارے گئے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بغداد سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق وسطی بغداد میں تحریر اسکوائر میں ہزاروں افراد نے احتجاجی دھرنا دیا۔ مظاہرے میں ہزاروں افراد شامل تھے جن میں بڑی تعداد میں خواتین بھی شریک تھیں۔

عراق کے سابق مصلوب صدر صدام حسین کے خاتمے کے بعد بغداد میں یہ حکومت مخالف سب سے بڑا مظاہرہ تھا جس میں دسیوں ہزار افراد نے شرکت کی ہے۔ مظاہرین موجودہ سیاسی نظام اور حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کررہے تھے۔

عراق میں حالیہ دنوں میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں میں 250 افراد ہلاک ہوئے۔ عراق میں احتجاج کا سلسلہ گذشتہ ماہ اس وقت شروع ہوا جب عوام مہنگائی اور بدعنوانی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ کے۔ سنہ 2003ء کے بعد عراق میں نسل پرست اور فرقہ پرست جماعتوں کے اقتدار میں آنے کے بعد عوام میں سخت غم وغصہ پایا جاتا ہے۔

متعدد مظاہرین نے جمعہ کے روز میسان گوعرنری میں البرزکان آئل فیلڈ البزارکان کو بند کردیا اور کارکنوں کو اس تک رسائی سے روک دیا۔

مظاہرین نے بصرہ میں ام قصر بندرگاہ کا دروازہ بند کردیا اور عوامی مطالبات کی تکمیل تک اپنے دھرنے اور مظاہرے جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

یکم اکتوبر کے بعد سے عراق میں بڑے پیمانے پر احتجاج دیکھنے میں آیا، چند دن کی خاموشی کے بعد جمعہ کوایک بار پھر بڑے پیمانے پرملک گیر مظاہرے شروع ہوگئے۔ مظاہرین موجودہ وزیراعظم اور ان کی کابینہ کا تختہ الٹنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

عوامی تحریک نے سب سے پہلے بنیادی خدمات کی عدم فراہمی ، وسیع پیمانے پر بے روزگاری اور سیاسی حکام کی غفلت اوربحرانوں کا حل تلاش کرنے میں ناکامی کے خلاف احتجاج شروع کیا۔ بعد میں یہ احتجاج حکومت کی تبدیلی اور ایرانی مداخلت کے خاتمے کے مطالبےکی شکل اختیار کرگیا ہے۔

مہلک ہتھیاروں کا استعمال

بدھ کی رات اور جمعرات کو تحریر اسکوائر میں نیا تشدد دیکھنے میں آیا، جب مظاہرین نے گرین زون سے ملانے والے پل کی رکاوٹیں توڑنے کی کوشش کی۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے جمعرات کے روزجاری ایک رپورٹ میں بتایا کہ عراقی سیکیورٹی فورسز کی طرف سے مظاہرین کے خلاف طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں مظاہرین کو خوفناک اور مہلک چوٹیں آئیں۔ کئی آنسوگیس شیل اور گولیاں مظاہرین کی کھوپڑیوں میں گھس گئیں۔

تنظیم نے عراقی حکام، انسداد فسادات پولیس اور دیگر سیکیورٹی فورسز سے اس قسم کے مہلک بموں کا استعمال فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

100 ہلاک اور 5500 زخمی

عراقی حکومت کے انسانی حقوق کمیشن نے بدھ کے روز کہا کہ عراق میں پرتشدد مظاہروں کے ایک ہفتے میں کم از کم 100 افراد ہلاک اور 5500 زخمی ہوئے ہیں

گذشتہ جمعہ کو حکومت مخالف مظاہروں کی دوسری لہر شروع ہونے کے بعد سے ہلاکتوں میں مجموعی طور پر مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز بھی شامل ہیں۔ کمیشن کے مطابق معلومات اکٹھا کرنے میں دشواری کی وجہ سے اموات کی تاریخوں کا تعین نہیں کیا جاسکا۔