شام میں ترک نواز جنگجوئوں کا امریکی قافلے پرحملہ
شمالی شام میں تُرکی کے حمایت یافتہ جنگجوئوں نے امریکی فوجی قافلے پرحملہ کیا ہے۔ سپوٹنک نیوز ایجنسی نے روسی فوج کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکا نے روس کو آگاہ کیا ہے کہ ترکی کے حمایت یافتہ عسکریت پسندوں نےاتوار کی شام کے تل تمر کے قریب امریکی فوجی قافلے پر حملہ کیا۔
شامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ ترکی کی بمباری سے راس العین کے دیہی علاقے ام العصافیر گاؤں میں چار عام شہری ہلاک ہوگئے۔
امریکی وزیر خزانہ اسٹیفن منوچن نے گذشتہ ہفتے ترکی کو متنبہ کیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ ضرورت کی صورت میں ترکی کے خلاف وہ پابندیاں عاید کرے گی جن کی فہرست امریکی انتظامیہ نےمحفوظ کر رکھی ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ اب تک وہ شام میں جنگ بندی سے مطمئن ہیں۔ اس لیے اس اطمینان نے پچھلی پابندیوں کو ختم کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔
سعودی عرب میں ایک انٹرویو میں منوچن نے کہا تھا کہ ترکی کے خلاف پابندیوں کی فہرست میں تبدیلی کی گئی ہے تاکہ نائب صدر مائیک پینس کے جنگ بندی کے لیے ترکی سے مذاکرات کو کامیاب بنایا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ اگر بات چیت کامیاب نہ ہوتی تو امریکا مالی پابندیاں عائد کردیتا۔
منوچن نے کہا کہ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم ابھی بھی فہرست کو برقرار رکھتے ہیں۔ ہمیں یقین کرنے کی کوئی وجہ نہیں کہ ہمیں اسے استعمال کرنے کی ضرورت ہوگی۔ میں سمجھتا ہوں کہ معاملات جس طرح چل رہے ہیں اس سے ہم مطمئن ہیں۔
ترکی کے شمال مشرقی شام پر حملے کی وجہ سے ترکی اور امریکا کے تعلقات کشیدہ ہوگئےتھے۔ ترکی نے شام میں ان کرد جنگجوئوں کے خلاف آپریشن شروع کیا جن کی مدد سے امریکا نے شام میں 'داعش' کو شکست فاش دی تھی۔