الاخوان المسلمین اور ایران کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ کتنا پرانا ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

مصر میں الاخوان المسلمین جماعت کے نائب مرشدِ عام ابراہیم منیر اور جماعت کے ایک رہ نما محمود الابیاری نے امریکی ویب سائٹ The Intercept کی جانب سے افشا معلومات کی روشنی میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ 2014 میں ترکی میں الاخوان کے وفد کی ایرانیوں کے ساتھ ملاقات اپنی نوعیت کی پہلی اور آخری ملاقات تھی تاہم یہ بات درست نہیں ہے۔ سال 1979 میں انقلاب کے بعد ایران میں مذہبی ٹولے کی اقتدار تک رسائی کے بعد سے گذشتہ 40 برسوں کے دوران مذکورہ فریقین کے درمیان متعدد ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایک سابق مصری سیکورٹی ذمے دار سے حاصل معلومات ،،، اور سیاسی اسلامی تحریکوں اور ایران کے امور کے ماہرین کی تحقیق کی روشنی میں الاخوان اور ایران کے درمیان سابقہ ملاقاتوں سے متعلق رپورٹ تیار کی ہے۔ فریقین کے بیچ علاقائی معاملات کے حوالے سے مشاورت اور رابطہ کاری کے لیے سمجھوتے ہوئے ... اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ الاخوان کے اقتدار میں پہنچنے کے بعد مصر میں ایرانی پاسداران انقلاب کی طرز پر انقلابی پاسداران تشکیل دینے کے لیے مشترکہ تعاون اور تہران حکومت کی جانب سے سابق صدر محمد مرسی کو 10 ارب ڈالر کی مالی سپورٹ کی بات چلنے لگی۔ مصدقہ معلومات کے مطابق سابق صدر محمد مرسی کے دور میں مصر میں صدارتی دفتر نے ایرانی پاسداران انقلاب کو معلومات فراہم کیں۔

سال 1979 میں خمینی ایرانی انقلاب اور خمینی کی وطن واپسی کے بعد الاخوان المسلمین جماعت میں خارجہ تعلقات کے ذمے دار یوسف ندا نے الاخوان کے ایک وفد کے تہران جانے کے واسطے طیارے کا انتظام کیا تا کہ خمینی کو مبارک باد پیش کی جائے۔ مصری سیکورٹی ذریعے نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اس بات کا انکشاف یوسف ندا مغربی اور مصری میڈیا کو دیے گئے بیانات میں کر چکے ہیں۔ یوسف کے مطابق انہوں نے اس سے قبل فرانس کا دورہ کر کے خمینی سے اُن کی قیام گاہ پر ملاقات کی تھی۔

معلومات کے مطابق یوسف ندا اور خمینی کے بیچ اس بات پر اتفاق رائے ہوا کہ الاخوان کے زیر انتظام کمپنیاں ایک ارب ڈالر کے عوض ایرانی شہروں کو جدید بنانے کے منصوبوں پر عمل درامد کریں گی۔ یوسف نے اعتراف کیا کہ اُس وقت کے ایرانی وزیر تجارت رضا حیدر نے امریکی تجارتی محاصرے کے بعد غذائی قلت اور خوراک کی کمی دور کرنے کے لیے اُن سے مدد طلب کی تھی۔ اس لیے کہ یوسف سمندری نقل و حمل کے شعبے میں کام کر رہے تھے۔ یوسف کے مطابق انہوں نے 1 لاکھ ٹن اسٹیل اور 4.5 لاکھ ٹن گندم ایرانیوں کو منتقل کی ،،، اور اس دوران 50 لاکھ ڈالر کا خسارہ برداشت کیا۔

اس کے بعد سے ایرانی نظام اور الاخوان المسلمین کے درمیان تعلقات مضبوط تر ہوتے چلے گئے۔ فریقین کے نزدیک دونوں کا مقصد ایک تھا اور وہ ہے اسلامی خلافت کا قیام ! الاخوان کے نزدیک ایرانی انقلاب اسلامی دنیا کے لیے ایک رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔

ایرانیوں اور الاخوان کے درمیان متعدد عنوانات کے تحت ملاقاتیں ہوئیں۔ ان میں نمایاں ترین عنوان بین المسالک قربت رہا۔ اس عنوان کے تحت تہران کے علاوہ یورپ اور ترکی کے شہروں میں کئی کانفرنسز اور اجلاس منعقد ہوئے۔

سال 2006 میں الاخوان کے مرشدِ عام نے ایک بیان میں کہا کہ وہ اسرائیل کے خلاف جنگ میں حزب اللہ کی مدد کے لیے 10 ہزار کے قریب جنگجو فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ جنگ ختم ہونے کے بعد حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ نے الاخوان کے موقف کو سراہتے ہوئے ،،، واسطوں کے ذریعے شکریے کا پیغام الاخوان کی قیادت تک پہنچایا۔

مصر میں جنوری 2011 کے انقلاب کے بعد بھی ایرانیوں اور الاخوان کے درمیان رابطہ کاری کا سلسلہ جاری رہا۔ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے مصریوں کو انقلاب کی مبارک باد پیش کی۔ اس موقع پر خامنہ ای نے عربی میں گفتگو کی۔ مصر میں الاخوان کے حکومت سنبھالنے کے عرصے میں سیکورٹی اداروں نے الاخوان کے عناصر اور قیادت کی ایران اور پاسداران انقلاب کی قیادت کے ساتھ متعدد ملاقاتیں ریکارڈ کیں۔

مصری سیکورٹی اداروں کی رپورٹ کے مطابق الاخوان کے رہ نما خالد عبدالمعطی نے حزب اللہ کے عناصر کے خرچ پر بیروت کا دورہ کیا اور وہاں ایرانی شخصیات سے ملاقات کی۔

مصری سیکورٹی ذمے دار نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ صدر محمد مرسی کے دور حکومت کے دوران ایرانی پاسداران انقلاب کے عناصر نے مصر کا دورہ کیا۔ دورے کا مقصد الاخوان کے ارکان کو تربیت دینا تھا تا کہ وہ پاسداران انقلاب کی طرز پر الاخوان کے زیر انتظام مسلح ملیشیا تشکیل دے سکیں۔ صدر مرسی نے حکومت سے سے مطالبہ کیا تھا کہ سیاحت کو سرگرم کرنے کے لیے 2 لاکھ ایرانی سیاحوں کو ملک میں داخلے کی اجازت دی جائے مگر مصری سیکورٹی اداروں نے یہ مطالبہ مسترد کر دیا۔

سال 2011 میں ہی الاخوان کے رہ نما کمال الہلباوی کی قیادت میں جماعت کے ایک وفد نے ایران کا دورہ کیا۔ وہاں سے دیے گئے بیانات میں الہلباوی نے ایران میں ملاؤں کی حکومت کی کامیابیوں کو گنوانا شروع کر دیا۔ الہلباوی نے خمینی کو ایک استاد قرار دیا جس سے طلبہ سیکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ الاخوان نے خمینی سے بھی اسی طرح بہت کچھ سیکھا جیسا کہ اپنی جماعت کے بانی سے سیکھا تھا۔

محمد مرسی کے دور میں ایران اور الاخوان کے تعلقات اعلانیہ طور پر سامنے آ گئے۔ مرسی نے ایران کا دورہ کیا اور ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کو مصر کے دورے کی دعوت دی۔ نژاد نے اس دعوت کو قبول کرتے ہوئے مصر کا دورہ کیا۔ وہ الازہر بھی گئے اور وہاں انہوں نے فتح (وکٹری) کا نشان بنا کر اشارہ کیا۔

الاخوان المسلمین میں مالی رقوم کی انتظامی کمیٹی کے سربراہ عزت خمیس نے 24 جنوری 2016 کو ایک پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ ایران نے الاخوان کی موافقت سے تنظیم کے دور حکومت کے دوران مصر کے قریب آنے کی کوشش کی۔ اس واسطے ایران نے 10 ارب ڈالر کی رقم ڈپازٹ کے طور پر فراہم کی اور پٹرولیم مواد کے ذریعے مرسی حکومت کی مدد کی کوشش کی۔

جولائی 2017 میں لندن میں ایک ملاقات کا انعقاد کیا گیا۔ ملاقات میں الاخوان کی بین الاقوامی انتظامیہ کے سکریٹری جنرل ابراہم منیر اور ایرانی سپریم لیڈر کی مقرب کئی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ اسی طرح اگست میں ایک اور ملاقات کا انتظام کیا گیا۔ اگرچہ الاخوان نے اس بات کی تردید کی کہ یہ ملاقات ایران کے ساتھ رابطہ کاری کا نتیجہ تھی تاہم ملاقات کا مقصد علاقائی معاملات کے حوالے سے مشاورت اور عراق، شام اور یمن میں ایران کے لیے الاخوان کی سپورٹ پیش کرنا تھا۔ اس کے مقابل الاخوان نے مصری حکومت کے خلاف اپنی جنگ میں ایران کی سپورٹ کا تقاضا کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں