اسرائیلی سپریم کورٹ میں نیتن یاہو کو وزارتِ عظمیٰ سے ہٹانے کے لیے درخواست!
اسرائیل میں نظم ونسق کی نگرانی کے لیے کام کرنے والی ایک غیرسرکاری تنظیم نے عدالتِ عظمیٰ میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف ایک درخواست دائر کی ہے اور اس میں عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ نیتن یاہو کو وزارتِ عظمیٰ سے دستبردار ہونے کا حکم دے۔
نیتن یاہو کے خلاف گذشتہ جمعرات کو بدعنوانیوں کے الزامات میں فردِ جرم عاید کی گئی تھی اور اس کی بنیاد پر ان کے خلاف اتوار کو عدالتِ عظمیٰ میں یہ درخواست دائر کی گئی ہے۔انھیں اپنی جماعت لیکوڈ کی صفوں سے بھی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ انھوں نے اپنے خلاف رشوت خوری ،فراڈ اور عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے الزامات کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ وہ بدستور وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر فائز رہیں گے اور اپنا دفاع کریں گے۔
اسرائیل میں تحریک برائے معیاری حکومت نے عدالتِ عظمیٰ میں دائر کردہ اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ ایک برسراقتدار وزیراعظم کے خلاف فوجداری الزامات میں پہلی مرتبہ فرد جرم عاید کی گئی ہے۔اس سے سرخ لکیر عبور ہوچکی اور حکمراں اداروں پر عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔
اس نے عدالت سے کہا ہے کہ وہ نیتن یاہو کو مستعفی ہونے یا عارضی طور پر خود کو وزارتِ عظمیٰ کے فرائض سے سبکدوش ہونے پر مجبور کرے۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہے کہ عدالت اس درخواست کی کب سماعت کرے گی اور کب اس پر اپنا حکم جاری کرے گی۔
نیتن یاہو پر ان کی اپنی جماعت کے لیڈروں کی جانب سے بھی دباؤ میں اضافہ ہوگیا ہے اور لیکوڈ پارٹی کے ایک لیڈر گڈون سعار نے وزارت عظمیٰ کے لیے ان کی نامزدگی کو چیلنج کردیا ہے۔
انھوں نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ بنیامین نیتن یاہو کی قیادت میں ان کی جماعت ملک میں منعقد ہونے والے آیندہ تیسرے انتخابات میں کامیابی حاصل نہیں کرے گی۔انھوں نے لیکوڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی نئی قیادت کا انتخاب کرے۔
انھوں نے اسرائیل کے چینل 12 سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہم صرف ایک ہی طریقے سے ملک کو بچاسکتے ہیں، موجودہ بحران سے نکال سکتے ہیں اور لیکوڈ کی حکمرانی کے تسلسل کو یقینی بنا سکتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ ہم آج ہی ان اکیس دن میں قبل از وقت نئے لیڈر کا انتخاب کریں۔‘‘
وہ پہلے بھی جماعت کی قیادت سنبھالنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ انھوں نے نیتن یاہو کی طویل المدت حکمرانی کو سراہا ہے اور کہا ہے کہ جب تک ان کے خلاف الزامات ثابت نہیں ہوجاتے ،اس وقت تک وہ بے گناہ ہی ہیں۔تاہم انھوں نے نیتن یاہو کے اپنے خلاف فوجداری مقدمے کو ایک بغاوت قرار دینے پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ ایسا قول ایک غیر ذمے دارانہ رویے کا مظہر ہے۔
لیکوڈ کے ترجمان نے اس چیلنج کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ ’’یہ ایک افسوس ناک امر ہے کہ جب وزیراعظم نیتن یاہو اسرائیل کو تمام محاذوں پر محفوظ رکھنے کی کوشش کررہے ہیں اور لیکوڈ پارٹی کی حکمرانی کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں لگے ہوئے ہیں تو گڈون سعار صفر وفاداری اور معاندانہ طرز عمل کا اظہار کررہے ہیں۔‘‘
جماعت لیکوڈ کے ارکان قبل ازیں یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ انتخابات کے نتائج سے قطع نظر صرف بنیامین نیتن یاہو ہی کو وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر قبول کریں گے۔
نیتن یاہو اسرائیل کی تاریخ میں جولائی میں سب سے زیادہ عرصہ برسراقتدار رہنے والے وزیراعظم بن گئے تھے۔ ان سے قبل ڈیوڈ بن گوریان طویل عرصہ صہیونی ریاست کے وزیراعظم رہے تھے۔نیتن یاہو اب مسلسل چوتھی مدت کے لیے امیدوار ہیں۔اسرائیل میں سترہ ستمبر کو چھے ماہ سے بھی کم مدت میں دوبارہ پارلیمانی انتخابات منعقد ہوئے تھے لیکن ان میں کوئی بھی جماعت حکومت کی تشکیل کے لیے درکار اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی۔
نیتن یاہو مخلوط حکومت کی تشکیل کے لیے دوسری جماعتوں کی حمایت بھی حاصل نہیں کرسکے ہیں۔ان کے مد مقابل سابق آرمی چیف بینی گانز بھی مطلوبہ اکثریت دکھانے میں ناکام رہے ہیں اور اب اگر اسرائیلی صدر کے دیے گئے اکیس دن کے عرصے میں کوئی بھی جماعت نئی حکومت بنانے میں ناکام رہتی ہے تو پھر اسرائیل میں ایک سال میں تیسری مرتبہ پارلیمانی انتخابات منعقد ہوں گے۔