عراقی کابینہ نے وزیراعظم عادل عبدالمہدی کے استعفے کی منظوری دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

عراق کی کابینہ نے وزیراعظم عادل عبدالمہدی کے استعفے کی منظوری دے دی ہے۔پارلیمان اتوار کو ان کی حمایت واپس لینے کا فیصلہ کرے گی۔

عراقی کابینہ نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت مظاہرین کے مطالبات کو پورا کرنے اور اصلاحات کے لیے جو کچھ کرسکتی تھی، وہ اس نے کردیا ہے۔ اس نے پارلیمان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے آیندہ اجلاس میں اس بارے میں کوئی فیصلہ کرے۔ماہرین کے مطابق وزیراعظم کے استعفے کے موثر العمل ہونے کے لیے پارلیمان سے منظوری ضروری ہے۔

عراقی مظاہرین نے وزیراعظم عادل عبدالمہدی کے استعفے کا خیرمقدم کیا ہے لیکن انھوں نے اس فیصلے کو ناکافی قرار دیا ہے۔ وہ تمام سیاسی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کررہے ہیں۔

عراق کے مقبول شیعہ لیڈر مقتدیٰ الصدر نے جمعہ کی شب ایک بیان میں مظاہرین سے احتجاج جاری رکھنے کی اپیل کی تھی۔ وہ ملک میں اکتوبر سے جاری حکومت مخالف احتجاجی تحریک کی حمایت کررہے ہیں لیکن اس کی مکمل حمایت کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے ٹویٹر پر لکھا کہ ’’ملک کے آیندہ وزیراعظم کا انتخاب عوامی ریفرینڈم کے ذریعے ہونا چاہیے اور وزارتِ عظمیٰ کے لیے پانچ امیدوار تجویز کیے جانے چاہییں۔ ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین کو اپنے مطالبات جاری رکھنے چاہییں لیکن انھوں نے تشدد کو مسترد کردیا تھا۔‘‘

عراقی مظاہرین نے بدھ کو جنوبی شہر نجف میں ایران کے قونصل خانے کو نذر آتش کردیا تھا۔ اس واقعے کے بعد بغداد اور جنوبی شہروں میں پُرتشدد واقعات میں شدت آئی ہے اور وزیراعظم عادل عبدالمہدی مستعفی ہونے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

نجف کے بعد جنوبی شہر ناصریہ میں پُرتشدد مظاہرے شروع ہوگئے تھے اور سکیورٹی فورسز نے وہاں مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کیا تھا جس کے نتیجے میں دسیوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں اور آج ہفتے سے ان کا تین روزہ سوگ منایا جارہا ہے۔

دریں اثناء عراق کے نیم سرکاری انسانی حقوق کمیشن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مظاہرین کی ہلاکتوں میں ملوّث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے اور وہ ان کے خلاف شواہد جمع کرے گا۔

بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹی نے عراق میں بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔اس نے بیان میں کہا ہے کہ ’’آتشیں ہتھیاروں اور براہ راست گولیوں کو آخری حربے کے طور پر چلایا جانا چاہیے۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں