اسرائیلی وزیردفاع کا الخلیل میں نئی یہودی بستی کی تعمیر کی منصوبہ بندی کاحکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیل کے نئے انتہا پسند وزیردفاع نفتالی بینٹ نے مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے میں واقع شہرالخلیل میں حکام کو ایک نئی یہودی بستی کی تعمیر کے لیے منصوبہ بندی کا حکم دیا ہے۔

اسرائیلی وزیردفاع نے یہ اعلان ایسے وقت میں کیا ہے جب اسرائیل میں اپریل کے بعد تیسرے پارلیمانی انتخابات کے امکانات بڑھتے جارہے ہیں اور اب تک کوئی بھی سیاسی لیڈر نئی کابینہ کی تشکیل کے لیے درکار حمایت حاصل نہیں کرسکا ہے۔

نفتالی بینٹ کی دائیں بازو کی نئی جماعت کو انتخابات میں کامیابی کے لیے یہودی آبادکاروں کی حمایت درکار ہوتی ہے۔اس لیے وہ آباد کار ووٹروں کو لبھانے کے لیے فلسطینی اراضی پر مزید یہودی آبادکاروں کو بسانے کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔

اسرائیلی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ مسٹر بینٹ نے مقبوضہ غربِ اردن کے امور کے ذمے دار محکموں کو الخلیل کی بلدیہ کو مجوزہ نئی یہودی بستی کی تعمیر کی منصوبہ بندی کے لیے مطلع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یہ یہودی بستی ہول سیل مارکیٹ کمپلیکس کے علاقے میں تعمیر کی جائے گی۔

یہ مارکیٹ الخلیل کی شاہراہ رشید پر واقع ہے۔اسرائیلی حکام نے اس شاہراہ کو فلسطینیوں کی آمد ورفت کے لیے بند کررکھا ہے اور وہ کئی بار اس کو ٹریفک کے لیے کھولنے کا مطالبہ کرچکے ہیں۔

یہ یقین کیا جاتا ہے کہ الخلیل میں حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام مدفون ہیں۔ یہ شہر مسلمانوں اور یہود کے لیے مقدس خیال کیا جاتا ہے۔دونوں مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان اس شہر میں متعدد مرتبہ خونریز واقعات رونما ہوچکے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روزالخلیل کے جنوب مغرب میں ایک فلسطینی کو گولی مار کر شہید کردیا تھا۔صہیونی فوج نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ مقتول دو اور فلسطینیوں کےساتھ مل کر فوجی گاڑیوں کی جانب پیٹرول بم پھینک رہے تھے۔

الخلیل کے عین درمیان میں قریباً آٹھ سو یہودی آبادکاروں کو بسایا جاچکا ہے اوران کے تحفظ کے لیے صہیونی فوج کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے جبکہ اس شہر میں قریباً دو لاکھ فلسطینی مقیم ہیں۔

اسرائیلی وزارت دفاع کے بیان کے مطابق مجوزہ تعمیری منصوبے سے اس شہر میں یہودی آبادکاروں کی تعداد دُگنا ہوجائے گی۔

دریں اثناء اسرائیلی کابینہ کے ہفتہ روزہ اجلاس میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے یہودی آبادکاروں کی سکیورٹی کو بہتر بنانے کے لیے چار کروڑشیکلز کے ایک پیکج کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’ ہم جودیا اور سمیریا میں آباد کمیونٹیوں کی سکیورٹی کو مضبوط بنا رہے ہیں۔‘‘

یادرہے کہ اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں بیت المقدس سمیت غربِ اردن اور غزہ کی پٹی کے علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔اس کے بعد ان فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیاں قائم کرنا شروع کردی تھیں۔اسرائیل اپنے تئیں اُن بستیوں کو قانونی قراردیتا ہے جن کی اس نے منظوری دی تھی اور انھیں غیر قانونی قرار دیتا ہے جنھیں یہودی آبادکاروں نے فلسطینی علاقوں میں ازخود ہی تعمیر کرلیا تھا لیکن فلسطینی اور عالمی برادری ان تمام یہودی بستیوں کو غیر قانونی قرار دیتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں