'باب زویلہ' جہاں عثمانیوں نے آخری ممالیک سلطان کو پھانسی دی

فلم سیریز ' ممالک النار' کی عرب ممالک میں غیرمعمولی پذیرائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

حال ہی میں مڈل ایسٹ براڈ کاسٹنگ کارپوریشن'ایم بی سی' ٹی وی چینل پر نشر کی جانے والی 'ممالک النار' کو عرب ممالک کے عوامی اور سماجی حلقوں کی طرف سے غیرمعمولی پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔ اس فلم کی پہلی قسط مکمل ہونے پراب تک اس پر سوشل میڈیا بالخصوص گوگل اور یوٹیوب پر اسے بہت زیادہ تلاش کیا گیا اور دیکھا گیا ہے۔

یہ فلم مصرمیں آخری ممالیک سلطان کی عثمانیوں کے ہاتھوں گرفتاری اور اس کی پھانسی کے گرد گھومتی ہے اورموجودہ قسط کا ڈراپ سین آخری ممالیک سلطان 'طومان بائی' کی پھانسی کے ساتھ اختتام پذیر ہوتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصری مورخ ابن ایاس الحنفی نے اپنی کتاب' بدائع الزھور فی وقائع الدھور' میں لکھا ہے کہ طومان بائی کو دارالحکومت قاہرہ کے جنوب میں واقع 'باب الزویلہ' کے مقام پر عثمانیوں نے 23 اپریل 1517ء بہ مطابق 21 ربیع الاول 923ھ کو پھانسی دی۔

انہوں نے لکھا ہےکہ طومان بائی کو 400 ترک فوجیوں کی سیکیورٹی میں باب الزویلہ لایا گیا جہاں لوگوں کا ایک مجمع آخری نظر ڈالنے کے لیے جمع تھا۔ طومان کے سامنے باب الزویلہ میں پھانسی کا پھندہ لٹک رہا تھا۔ موت کو سامنے دیکھ کر طومان بائی کے پائے استقلال میں ذرہ بھی لغزش نہ آئی اور وہ پوری جرات ، حوصلے اور ثابت قدمی کی طرف خود ہی پھانسی گھاٹ کی طرف بڑھا۔ لوگ یہ منظر دیر تک دیکھتے رہے۔ اس نے وہاں موجود لوگوں سے تین بار فاتحہ خوانی کی درخواست کی اس کے بعد اس نے جلاد سے خود کہا کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کرے یعنی اسے پھانسی دے دے۔

ابن یاس مزید لکھتے ہیں کہ عثمانی جلاد نے طومان بائی کے گلے میں پھانسی کا پھندہ ڈالا مگرپہلی کوشش میں پھندہ ٹوٹ گیا اور سلطان بائی دروازے پر گر پڑا۔ اس کے بعد دوسری کوشش بھی ناکام رہی اور تیسری کوشش میں اس کی روح پرواز کرگرئی۔ تیسری بار پھانسی دیے جانے کے بعد اس کی لاش مسلسل تین تن تک دروازے ہر لٹکتی رہی۔ اس کے بعد لاش کو اتار کر مدرسہ الغوری کے عقب میں موجود قبرستان میں سپردک خاک کردیا گیا۔

ابن یاس نے اپنی کتاب میں ممالیک کے خری سلطان کی شخصیت کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ سلطان طومان بائی ایک حسین اور خوش آخلاق جوان تھا۔ پھانسی کے وقت اس کی عمر 44 سال تھی۔ وہ ایک بہادر سپاہی اور فوجی سپہ سالار تھا اوراس نے عثمانیوں کی چیرہ دستیوں کے خلاف کئی محاذوں پر انہیں شکست دی تھی۔

مصر کی عین الشمس یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر نادر عبدالدائم نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے باب الزویلہ پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ باب الزویلہ 485 ھ بہ مطابق 1092ء کو فاطمی خلیفہ مستنصر باللہ کے دور میں تعمیر کیا گیا۔ اس کی تعمیر اس وقت کے فوجی جرنیل بدر الجمالی نے کی اور اسے باب الزویلہ کا نام دیا گیا۔ اسے یہ نام ایک مصری قبیلے زویلہ کی نسبت سے دیا گیا۔ یہ قبیلہ فاطمیوں کے ہمراہ مصرآیا اور جنوبی قاہرہ میں آباد ہوگیا تھا۔

مصری مورخ ابن یاس حنفی لکھتے ہیں کہ عثمانیوں نے مصر پرقبضے کے بعد بڑے پیمانے پر خون خرابہ کیا اور ممالیک کے وفاداروں کو چن چن کر پھانسی دی جاتی۔ان کی املاک چھین لی جاتیں اور انہیں ہرطرح کی مراعات اور اعزازات سے محروم کردیا جاتا۔

مصری دانشور ڈاکٹر محمد صبری الدالی لکھتے ہیں کہ ممالیک نے عثمانیوں کا بہادری کے ساتھ مقابلہ کیا مگر طومان بائی کے ساتھ عثمانیوں نے جو سلوک کیا وہ ان کی مجرمانہ ذہنیت اور ظلم کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مصری اچھی طرح جانتے تھے کہ عثمانی حملہ آور اور قابض ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں پنے وطن کے دفاع کے لیے عثمانیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اس مقابلے پرعثمانیوں نے بڑے پیمانے پر مصرمیں قتل عام کیا تھا۔

وہ لکھتے کہ عثمانیوں نےمصر میں داخل ہونے کے پہلے روز 10 ہزار افراد کو قتل کیا۔ دوسرے دن یہ تعداد دوگنا ہوگئی اور 20 ہزار لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور مجموعی طور قاہرہ میں پچاس ہزار لوگوں کو قتل کیا گیا۔

امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے بدھ کے روز کہا کہ تہران کی جانب سے خطے کو غیر مستحکم کرنے کی کوششیں مزید خراب ہوتی جارہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں