.

ایردوآن کا مقرب تاجر سوڈان سے 7 کروڑ ڈالر لے اُڑا !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک طرف سوڈانی عوام یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ ان کے ملک کی لوٹی ہوئی دولت واپس آئے گی اور عوام کے مال پر ڈاکہ ڈالنے والے ہر شخص سے حساب بے باق کیا جائے گا ،، تو دوسری جانب ہر آنے والے دن میں معزول صدر عمر البشیر کے دور میں الاخوان المسلمین اور ان کے کارندوں کی نت نئی شرم ناک کارستانیوں کا انکشاف ہو رہا ہے۔

اسی سلسلے میں دو روز قبل سوڈان میں استغاثہ نے ترکی کی ایک کاروباری شخصیت اوکتائے ارجان کو حراست میں لینے کے احکامات جاری کیے۔ اوکتائے ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کا مقرب ہے۔

سوڈانی استغاثہ کے مطابق اوکتائے ارجان 2002 میں پہلی مرتبہ سوڈان میں داخل ہوا تو اس کے پاس مردانہ کپڑوں کے چند سوٹ کیس کے سوا کچھ نہ تھا۔ تاہم وہ جلد ہی "ایک مالی سلطنت کا شہنشاہ" بن گیا۔ مقامی میڈٰیا کے مطابق ترکی میں حکمراں جماعت سے تعلقات کی بنیاد پر اوکتائے نے عمر البشیر کی حکومت کے متعدد رہ نماؤں کے ساتھ شراکت داری کے روابط پیدا کر لیے۔

استغاثہ نے بتایا کہ بعد ازاں ترک تاجر کو اوکتائے شعبان حسنی کے نام سے سوڈان کی شہریت دے دی گئی۔ استغاثہ نے اوکتائے سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر خود کو نزدیک ترین پولیس حکام کے حوالے کر دے۔ اس مہلت کا آغاز اتوار کے روز سے ہوا ہے۔

سوڈانی استغاثہ کے قیل کے مطابق اوکتائے ارجان پر ناجائز دولت کمانے، ٹیکس کے قانون کی خلاف ورزی کرنے اور منی لانڈرنگ سے متعلق الزامات ہیں۔

ترکی کے اخبار حریت کے مطابق ترک سوڈانی کاروباری شخصیت پر الزام ہے کہ اس نے ایک سودے کے ذریعے تقریبا 7 کروڑ ڈالر ہتھیا لیے۔ عمر البشیر کی حکومت کی معاونت سے اوکتائے کو اسلامک ڈیولپمنٹ بینک سے 12 کروڑ ڈالر کا قرض مل گیا۔

ترکی کے صدر اور عمر البشیر کے درمیان معاہدے سے اوکتائے کی کمپنی کو سوڈانی کاٹن کے 60 فی صد کی مارکیٹنگ کے حقوق حاصل ہو گئے۔ اس کے علاوہ اوکتائے پر تیل، معدنیات اور دیگر شعبوں میں بدعنوانی کے الزامات ہیں۔

واضح رہے کہ اقتصادی ماہر علی سعید العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ ایک سابقہ انٹرویو میں اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ گذشتہ تیس برسوں کے دوران سوڈان میں عمر البشیر کی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں اور "اسلامی فرنٹ" سے تعلق رکھنے والے افراد کے مفاد میں 4 ہزار کارخانوں کو بند کیا گیا۔

ادھر خرطوم یونیورسٹی کے محقق حافظ احمد عبداللہ کے مطابق سوڈان میں انقلاب لانے کے بعد تھوڑے ہی عرصے میں 600 کے قریب تجارتی کمپنیاں "اسلامی فرنٹ" کی ملکیت میں آ گئیں۔ ان کمپنیوں کا تعلق درآمدات، برآمدات، اراضی، سڑکوں، پُلوں اور ٹھیکے داری سے تھا۔