.

عراق میں روس اورچین امریکا کی فوجی معاونت کا متبادل ہوسکتے ہیں: ملیشیا لیڈر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نواز شیعہ ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی کے یونٹ کمانڈر قیس الخزعلی نے کہا ہے کہ روس اور چین عراق میں امریکا کی فوجی معاونت اور مشاورت کا متبادل ہوسکتے ہیں۔

انھوں نے یوٹیوب چینل پر سوموار کو جاری کیے گئے ایک ریکارڈ ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ’’ عراقی حکومت خود دوسروں پر انحصار کیے بغیر فوجی مدد اور مشاورت مہیا کرسکتی ہے۔اس مقصد کے لیے روس ، چین اور دوسرے ممالک سمیت بہت سے ذرائع موجود ہیں۔‘‘

انھوں نے یہ بیان اتوار کو عراقی پارلیمان میں منظور کردہ ایک قرارداد کے بعد جاری کیا ہے۔اس میں حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ عراق میں تعینات امریکیوں سمیت تمام غیرملکی فوجیوں کی موجودگی کے خاتمے کے لیے کام کرے۔حکومت سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ امریکا کی قیادت میں اتحاد کی جانب سے مدد کے لیے درخواست کو منسوخ کردے۔

قیس الخز علی نے عراقی پارلیمان کی تاریخ میں منظورکردہ قراردادوں میں اس کو سب سے اہم قرارداد قراردیا ہے۔

انھوں نے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے ردعمل میں عراق میں موجود امریکی فوجیوں کو ہلاک اور زخمی کرنے کی بھی دھمکی دی ہے اور امریکی کانگریس کے نام ایک پیغام میں کہا ہے کہ ’’آپ کی انتظامیہ کا صدر آپ کے فوجیوں کی مزید ہلاکت اور زخمی ہونے ہی کا سبب بنے گا جبکہ انھوں نے ان فوجیوں کو محفوظ طریقے سے واپس بلانے کا وعدہ کیا تھا۔‘‘